مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 191 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 191

مضامین بشیر جلد چہارم 191 ہوں صرف انہی کو فدیہ ادا کرنا چاہیئے باقی سب کو روزہ رکھنا چاہئے۔البتہ اگر کوئی دوست عارضی بیماری یا عارضی سفر کی وجہ سے روزہ ترک کرنے کے لئے مجبور ہوں اور آئندہ گنتی پوری کرنے کی امید بھی رکھتے ہوں وہ بھی اس شرط کے ساتھ فدیہ دے سکتے ہیں کہ مجبوری دور ہونے پر وہ روزوں کی گنتی بھی پوری کر دیں گے۔ایسے بھائیوں اور بہنوں کے لئے انشاء اللہ دوہرا ثواب ہوگا۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ اصل فدیہ تو یہ ہے کہ کسی غریب کو اپنی حیثیت کے مطابق رمضان میں مہینہ بھر کھانا کھلا دیا جائے۔لیکن یہ صورت بھی بالکل جائز ہے کہ کھانے کی جگہ اپنے کھانے کی حیثیت کے مطابق نقد رقم ادا کر دی جائے تا کہ کوئی مستحق غریب اس رقم سے اپنے کھانے کا انتظام کر سکے۔5 (محررہ 25 جنوری 1961ء)۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 31 جنوری 1961ء) 6 ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب مرحوم ایک قابل رشک زندگی خدائے عرش کی تقدیر پوری ہوئی اور ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب کو میں بچپن سے جانتا ہوں کیونکہ وہ سکول کے زمانہ میں میرے شاگر در ہے ہیں اور اس کے بعد بھی انہوں نے ہمیشہ خط و کتابت اور ملاقات کے ذریعہ تعلق قائم رکھا۔میں اپنے ذاتی مشاہدہ اور ذاتی علم کی بناء پر کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر بدرالدین صاحب مرحوم بے حد شریف اور بے شر اور مخلص اور نیک فطرت انسان تھے۔بچپن سے ہی وہ نمازوں کے پابند ، قرآن کے عاشق اور دعاؤں میں شغف رکھتے تھے اور اصطلاحی طور پر غیر واقف زندگی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی ساری زندگی عملاً خدمت دین کے لئے وقف رکھی۔تبلیغ ان کی روح کی غذا تھی اور سلسلہ کے لئے قربانی اور امام کی فرمانبرداری ان کا طرز کا امتیاز۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حکم سے بور نیو کے دور دراز ملک میں جا کر آباد ہو گئے اور وہیں اپنی بقیہ زندگی خدمت سلسلہ میں گزار دی اور اس ملک کو اس وقت چھوڑ ا جب انہوں نے سمجھ لیا کہ میرا وقت آچکا ہے اور اب مجھے اپنے آشیانہ میں واپس پہنچ جانا چاہئے۔چنانچہ ربوہ پہنچتے