مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 189 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 189

189 مضامین بشیر جلد چهارم بھی ہے اور دوستی کا یہ تقاضا ہے کہ کبھی انسان اپنے دوست کی بات مانے اور کبھی اسے اپنی بات منوائے۔اور ان دونوں حالتوں میں کسی نہ کسی رنگ میں خدا کی رحمت ہی جلوہ گر رہتی ہے۔دعاؤں کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں کہ یہ بڑی حکمت کا کلام ہے فرماتے ہیں کہ : کیا ہی قادر و قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔کیا ہی زبر دست قوتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا۔سچ تو یہ ہے کہ اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں مگر وہی جو اس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے۔سو جب تم دعا کرو تو ان جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانونِ قدرت بنا بیٹھے ہیں۔۔۔کیونکہ وہ مردود ہیں ان کی دعائیں ہر گز قبول نہیں ہوں گی لیکن جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے۔ان لوگوں کے پیرومت بنو جنہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے چاہئے کہ تمہارے ہر ایک کام میں خواہ دنیا کا ہو خواہ دین کا خدا سے طاقت اور توفیق مانگنے کا سلسلہ جاری رہے۔۔۔۔خدا تمہاری آنکھیں کھولے تا تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا خدا تمہاری تمام تدابیر کا شہتیر ہے۔اگر شہتیر گر جائے تو کیا کڑیاں اپنی چھت پر قائم رہ سکتی ہیں؟ مبار کی ہواس انسان کو جو اس راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہو گیا وہ شخص جس نے اس راز کو نہیں سمجھا۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 20-24) بس اسی پر میں اپنے اس مقالہ کو ختم کرتا ہوں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان روحانی اور اخلاقی اقدار کا وارث بنائے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں نازل ہوئیں اور پھر آپ کے خادم اور نائب حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کی تجدید ہوئی اور انہوں نے اس زمانہ کے تقاضوں کے مطابق ایک نئی روشنی پائی تا کہ اسلام کا بول بالا ہو اور جماعت احمدیہ کے ذریعہ دنیا کے کناروں تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نور پھیل جائے اور حضرت مسیح موعود کا یہ الہام اپنی کامل شان اور کامل جلال کے ساتھ پورا ہو کہ : بخرام که وقت تو نزد یک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد پس اے عزیز و اور دوستو! اپنے قدموں میں مضبوطی پیدا کرو کہ ایک بہت بلند مینار کی چڑھائی آپ کا