مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 188 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 188

مضامین بشیر جلد چهارم 188 اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیرہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنادے۔“ روایات حضرت مفتی صاحب مندرجہ ذکرِ حبیب صفحہ 109 110) اللہ اللہ! کیا جذبہ انکساری ہے کہ سلطان القلم اور اس میدان میں فاتح اعظم ہوتے ہوئے بھی خدائی نصرت کے مقابل پر کس عاجزی سے اپنے قلم کی کمزوری کا اعتراف فرما رہے ہیں۔یہ وہی انتہائی جذبہ انکساری ہے جس کے ماتحت آپ نے اپنی ایک نظم میں فرمایا ہے کہ: کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا درگہ میں بار حق یہ ہے کہ انسان کی کامیابی کا تمام راز خدا کی نصرت میں ہے۔یہ نصرت دین کے میدان میں دعا کے ذریعہ ہوتی ہے اور دنیا کے میدان میں خدا کے بنائے ہوئے قانونِ قدرت کے ذریعہ خفیہ طور پر اپنا اثر دکھاتی ہے اسی لئے تمام نبیوں اور تمام ولیوں اور تمام خدا رسیدہ لوگوں نے ہر زمانہ میں دعا پر بہت زور دیا ہے۔کیونکہ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان روحانی رشتہ کا مرکزی نقطہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ ( سنن الترندی کتاب الدعوات) یعنی دعا عبادت کا اندرونی مغز اور اس کی روح ہے جس کے بغیر انسان کی عبادت ایک کھوکھلی ہڈی کے سوا کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔32 پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ دعاؤں میں بہت توجہ اور انہماک اور در دوسوز کی کیفیت پیدا کریں اور اسے اپنی زندگی کا سہارا بنا ئیں اور اس پر ایک بے جان رسم کے طور پر نہیں بلکہ ایک زبر دست زندہ حقیقت کے طور پر قائم ہو جا ئیں اور یقین رکھیں کہ خدا دعاؤں کو سنتا ہے۔مگر جس طرح وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کی التجاؤں کو مانتا ہے اس طرح وہ کبھی بعض مصالح کے ماتحت ان کی درخواست کو رڈ کر کے اپنی بھی منواتا ہے۔لیکن کسی دعا کا قبول نہ ہونا دعاؤں کی قبولیت کے بنیادی فلسفہ پر کوئی اثر نہیں رکھتا کیونکہ عام لوگوں کے لئے خدا آقا ہے اور آقا کو حق ہے کہ وہ اپنے کسی خادم کی بد اعمالی پر ناراض ہو کر اس کی بعض درخواستوں کو ر ڈ کر دے اور اپنے خاص بندوں کے لئے وہ آقا ہونے کے علا وہ دوست