مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 158 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 158

مضامین بشیر جلد چهارم 158 اللہ ، کیا زمانہ تھا۔اسی طرح جب کوئی خاص دوست آپ کی ملاقات کے بعد قادیان سے واپس جانے لگتا تھا تو بعض اوقات ایک ایک میل یا دو دو میل تک اسے رخصت کرنے کے لئے اس کے ساتھ جاتے تھے اور بڑی محبت اور اکرام اور دعا کے ساتھ رخصت فرماتے تھے۔اور مہمانوں کے واپس جانے پر آپ کے دل کو اس طرح رنج پہنچتا تھا کہ گویا اپنا ایک قریبی عزیز رخصت ہو رہا ہے۔چنانچہ مہمانوں کے ذکر فرماتے ہیں: مہماں جو کر کے الفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے تم جب یاد آئے وقتِ رخصت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِـي دنیا بھی اک سرا ہے بچھڑے گا جو ملا ہے سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي گر (محمود کی آمین) مہمان نوازی کے تعلق میں مولانا ابوالکلام آزاد کے بڑے بھائی مولانا ابوالنصر مرحوم کے قادیان جانے کا ذکر بھی اس جگہ بے موقع نہ ہو گا۔وہ 1905 ء میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔بہت زیرک اور سمجھدار بزرگ تھے۔قادیان سے واپس آکر انہوں نے اخبار ”وکیل امرتسر میں ایک مضمون لکھا جس میں مولانا ابوالنصر فرماتے ہیں کہ : میں نے کیا دیکھا؟ قادیان دیکھا، مرزا صاحب سے ملاقات کی اور ان کا مہمان رہا۔مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہئے۔اکرام ضیف کی صفت خاص اشخاص تک محدود نہ تھی۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا سا سلوک کیا۔۔۔مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندار ہے جس کا اثر بہت قوی ہوتا ہے۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے۔طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔مزاج ٹھنڈ ا مگر دلوں کوگر مادینے والا۔بردباری کی شان نے انکساری کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا۔