مضامین بشیر (جلد 4) — Page 157
مضامین بشیر جلد چہارم 157 ایسا کوئی امتیاز نہیں ہوتا تھا۔بلکہ آپ کی مجلس میں ہر طبقہ کے لوگ آپ کے ساتھ اس طرح ملے جلے بیٹھتے تھے کہ جیسے ایک خاندان کے افراد گھر میں مل کر بیٹھتے ہیں۔اور بسا اوقات اس بے تکلفانہ انداز کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ حضرت مسیح موعود بظاہر ادنی جگہ پر بیٹھ جاتے تھے اور دوسرے لوگوں کو غیر شعوری طور پر اچھی جگہ مل جاتی تھی۔بیسیوں مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ چار پائی کے سرہانے کی طرف کوئی دوسرا شخص بیٹھا ہوتا تھا اور پائنتی کی طرف حضرت مسیح موعود ہوتے تھے۔پانگی چارپائی پر آپ ہوتے تھے اور چادر وغیرہ والی چار پائی پر آپ کا کوئی مرید بیٹھا ہوتا تھا۔یا اونچی جگہ پر کوئی مرید ہوتا تھا اور نیچی جگہ میں آپ ہوتے تھے۔مجلس کی اس بے تکلفانہ صورت کی وجہ سے بعض اوقات ایک نو وار دکو دھو کا لگ جاتا تھا کہ حاضر مجلس لوگوں میں سے حضرت مسیح موعود کون سے ہیں اور کس جگہ تشریف رکھتے ہیں۔مگر یہ ایک کمال ہے جو صرف خدا کے ماموروں کی جماعتوں میں ہی پایا جاتا ہے کہ اس بے تکلفی کے نتیجہ میں کسی قسم کی بے ادبی کا رنگ پیدا نہیں ہوتا تھا۔بلکہ ہر شخص کا دل آپ کی محبت اور ادب اور احترام کے انتہائی جذبات سے معمور رہتا تھا۔+99 (سیرۃ المہدی و سلسلہ احمدیہ وشمائل مصنفہ عرفانی صاحب) مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ شروع میں جب مہمانوں کی زیادہ کثرت نہیں تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحت بھی نسبتا بہتر تھی۔آپ اکثر اوقات مہمانوں کے ساتھ اپنے مکان کے مردانہ حصہ میں اکٹھے بیٹھ کرکھانا کھاتے تھے اور کھانے کے دوران میں ہر قسم کی بے تکلفانہ گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔گویا ظاہری کھانے کے ساتھ علمی اور روحانی کھانے کا دستر خوان بھی بچھ جاتا تھا۔ایسے موقعوں پر آپ عموماً ہر مہمان کا خود ذاتی طور پر خیال رکھتے تھے اور اس بات کی نگرانی فرماتے تھے کہ اگر کبھی دستر خوان پر ایک سے زیادہ کھانے ہوں تو ہر شخص کے سامنے دستر خوان کی ہر چیز پہنچ جائے۔عموماً ہر مہمان کے متعلق دریافت فرماتے رہتے تھے کہ کسی خاص چیز مثلاً دودھ یا چائے پالسی یا پان کی عادت تو نہیں۔اور پھر حتی الوسع ہر ایک کے لئے اس کی عادت کے موافق چیز مہیا فرماتے تھے۔بعض اوقات اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ کسی مہمان کو اچار کا شوق ہے اور اچار دستر خوان پر نہیں ہوتا تھا تو خود کھانا کھاتے کھاتے اٹھ کر اندرونِ خانہ تشریف لے جاتے اور اندر سے اچار لا کر ایسے مہمان کے سامنے رکھ دیتے تھے۔اور چونکہ آپ بہت تھوڑا کھانے کی وجہ سے جلد شکم سیر ہو جاتے تھے اس لئے سیر ہونے کے بعد بھی آپ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرے اٹھا کر منہ میں ڈالتے رہتے تھے۔تا کہ کوئی مہمان اس خیال سے کہ آپ نے کھانا چھوڑ دیا ہے دستر خوان سے بھوکا ہی نہ اٹھ جائے۔اللہ