مضامین بشیر (جلد 4) — Page 159
مضامین بشیر جلد چہارم 159 متبسم ہیں۔مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا -۔۔مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقع دیا کہ ہم آپ کو اس وعدہ پر واپس جانے کی اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھر آئیں اور کم از کم دو ہفتہ قیام کریں میں جس شوق کو لے کر گیا تھا اسے ساتھ لایا اور شاید و ہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے۔“ ( اخبار وکیل امرتسر بحوالہ شمائل مصنفہ حضرت عرفانی صاحب) قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد یعنی ہمارے دادا صاحب کے زمانے کا ایک پھل دار باغ تھا جس میں مختلف قسم کے شمر دار درخت تھے۔حضرت مسیح موعود کا یہ طریق تھا کہ جب پھل کا موسم آتا تو اپنے مقیم دوستوں اور مہمانوں کو ساتھ لے کر اس باغ میں تشریف لے جاتے اور موسم کا پھل اُتروا کر سب کے ساتھ مل کر بے تکلفی سے نوش فرماتے تھے۔اس وقت یوں نظر آتا تھا کہ گویا ایک مشفق باپ کے اردگرد اس کے معصوم بچے گھیرا ڈالے بیٹھے ہیں۔اس مجلس میں بھی علم و عرفان کا چشمہ جاری رہتا تھا اور عام بے تکلفی کی باتیں بھی ہوتی تھیں۔اور خدا اور رسول کا ذکر تو حضرت مسیح موعود کی ہر مجلس کا مرکزی نقطہ ہوا کرتا تھا۔(سلسلہ احمدیہ) 10 مہمانوں کے ذکر کی ذیل میں ایک نہایت دردناک واقعہ کا خیال آ گیا جس کے ذکر سے میں اس وقت رُک نہیں سکتا۔افغانستان کے علاقہ خوست میں ایک نہایت درجہ بزرگ عالم رہتے تھے جو رؤسا کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور افغانستان میں ان کے علم اور نیکی اور شرافت اور خاندانی وجاہت کی وجہ سے ان کا اتنا اثر تھا کہ قابل میں امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی۔ان کا نام صاحبزادہ مولوی سید عبداللطیف صاحب تھا۔صاحبزادہ صاحب نے جب یہ سنا کہ قادیان میں ایک شخص نے مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو وہ تلاش حق کے لئے کابل سے قادیان تشریف لائے اور حضرت مسیح موعود کی ملاقات سے مشرف ہوئے۔اور چونکہ صیح فراست اور نیک فطرت رکھتے تھے انہوں نے آتے ہی سمجھ لیا کہ حضرت مسیح موعود کا دعوی سچا ہے اور بیعت میں داخل ہو گئے۔چند ماہ کے قیام کے بعد جب وہ وطن واپس جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے طریق کے مطابق انہیں رخصت کرنے کے لئے کافی دور تک بٹالہ کے رستہ پر ان کے ساتھ گئے۔اور جب جدائی کا آخری وقت آیا تو صاحبزادہ صاحب غم سے اتنے مغلوب ہوئے کہ