مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 112 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 112

مضامین بشیر جلد چهارم 112 مجلس انصار اللہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر افتتاحی خطاب مؤرخہ 28 اکتوبر بروز جمعہ پانچ بجے شام مجلس انصار اللہ کے چھٹے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو روح پرور افتتاحی خطاب فرمایا اس کا مکمل متن افادہ احباب کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔(ادارہ) أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔برادران کرام! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے لئے مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں اس مبارک موقع پر حاضرین سے افتتاحیہ خطاب کروں۔ایسی تقریب میں افتتاحیہ خطاب ایک بڑی اہم چیز ہے اور میں اپنے اندر اس کی اہلیت نہیں پاتا۔یہ مقام صرف امام کا ہے یا امام کے مقرر کردہ نائب کا۔مگر شرکت ثواب کی غرض سے ایک نہایت مختصر سا مقالہ اپنے بھائیوں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور مجھے اور آپ سب کو اس کے اچھے حصہ پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین اس موقع پر انصار اللہ کے اجتماع کے لئے کسی پیغام کا انتخاب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔کیونکہ یہ پیغام بصورت احسن انصار اللہ کے لفظ میں مرکوز ہے جس کے معنی خدائی خدمت گار کے ہیں۔قرآن مجید نے انصار اللہ کی اصطلاح اولاً حضرت مسیح ناصری کے مشن کے تعلق میں استعمال کی ہے۔جہاں یہ ذکر آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ (الصف: (15) کہہ کر اپنے حواریوں سے اپنے خداداد مشن میں مددگار بننے کا مطالبہ کیا۔اور اس کے جواب میں حواریوں نے عرض کیا نَحْنُ أَنــــــــــارُ الله (الصف: 15 ) یعنی اے خدا کے مسیح! ہم خدا کے کام میں آپ کے معاون و مددگار بنے کا وعدہ کرتے ہیں۔اس کے بعد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ گو بعض حواریوں سے کچھ کمزوریاں اور فروگزاشتیں بھی ہوئیں مگر انہوں نے بحیثیت مجموعی خدا کے رستہ میں تکلیفوں اور مصیبتوں اور صعوبتوں کو برداشت کرنے اور اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق حضرت مسیح ناصری کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں بڑی جانفشانی اور بڑے صبر واستقلال اور قربانی سے کام لیا۔بلکہ وہ اپنے تبلیغی جوش میں اور بعض بعد میں آنے والے لوگوں کی غلط تشریحات کے نتیجہ میں حضرت مسیح ناصرٹی کے منشاء سے بھی آگے نکل گئے۔کیونکہ گومسیح کا مشن صرف بنی اسرائیل کی کھوئی