مضامین بشیر (جلد 4) — Page 92
مضامین بشیر جلد چهارم 92 طرف ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ جو شخص مقبرہ بہشتی میں دفن نہ ہو وہ نعوذ باللہ جنتی نہیں۔کیونکہ مقبرہ بہشتی کے علاوہ بھی خدائی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔بلکہ ہمارا عقیدہ صرف یہ ہے کہ اس مقبرہ میں دفن ہونے والا خدا کے فضل سے جنتی ہے۔اور اگر اس میں کوئی کمزوری ہے تو خدا تعالیٰ اپنی ذرہ نوازی سے اس سے عضواور بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔جو شخص اس زمانہ میں اپنے لئے خدائی بخشش کو یقینی بنانا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ دین داری اور قربانی کی شرط پوری کرتے ہوئے وصیت کے نظام میں داخل ہو جائے۔کیونکہ مادیت کے اس زمانہ میں یہی امن اور سلامتی کا یقینی حصار ہے۔فَافُهُمْ وَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ - وَاخِرُ دَعُونَا أَن الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ - وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا ِباللهِ الْعَظِيم - 28۔۔۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوہ 12 جولائی 1960 ء) مرحوم شیخ محمد یعقوب در ولیش بہت دیندار اور مخلص اور وفادار احمدی تھے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مکرم شیخ محمد یعقوب درویش صاحب مرحوم کی وفات کی اطلاع الفضل میں بھجواتے ہوئے آپ کے اوصاف کا یوں ذکر فرمایا۔مرحوم شیخ محمد یعقوب صاحب چنیوٹ متصل ربوہ کے رہنے والے تھے۔لیکن ملکی تقسیم کے وقت خدمت سلسلہ کی غرض سے قادیان چلے گئے تھے اور پھر انہوں نے باوجود لمبی اور تکلیف دہ بیماری کے یہ سا را عرصہ بڑے اخلاص اور صبر واستقلال اور وفاداری کے ساتھ قادیان میں گزارا اور اپنے ایام درویشی میں کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں پیدا ہونے دیا۔بلکہ دوسروں کے لئے اخلاص اور وفاداری کا پاک نمونہ قائم کیا۔مرحوم اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل اپنے بچوں کے پاس علاج کی غرض سے ڈھا کہ مشرقی پاکستان چلے گئے تھے اور وہیں وفات پائی۔ان کے بچوں نے جو خدا کی فضل سے باپ کی طرح مخلص ہیں نہ صرف ان کی خدمت اور تیمارداری کا پورا پورا حق ادا کیا اور صرف کثیر سے ان کا جنازہ ہوائی جہاز کے ذریعہ لاہور اور پھر ٹرک کے ذریعہ ربوہ لائے اور باپ کی آخری خدمت سے سبکدوش ہوئے۔فَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ