مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 91 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 91

مضامین بشیر جلد چهارم 91 اپنے وعدہ کے مطابق انہیں اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانک لیا اور ان کی کمزوریوں سے درگز رفرمایا اور ان کا انجام اچھا ہو گیا تو اس خوش قسمت جماعت کے خلاف زبان کھولنا اور انہیں ان کے مرنے اور مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کے بعد نا گوار طعن کا نشانہ بنانا ایسی جسارت ہے جو کچی تو بہ کے سوا ہر گز معاف نہیں ہوسکتی۔پس میں ایسے لوگوں سے کہتا ہوں کہ خدا سے ڈرو اور اپنے مرنے والوں اور مقبرہ بہشتی میں جگہ پانے والوں پر اعتراض کر کے اپنی عاقبت کو خطرہ میں نہ ڈالو اور دوسروں کے عیب گننے کی بجائے خود اپنے انجام کی فکر کرو۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس حکیمانہ شعر کو بھی نہ بھولو کہ : ے بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم ہے نہ حقیقت ہے آشکار ( در تمین اردو) خود میرا یہ حال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان متضرعانہ دعاؤں کے باوجود جو حضور نے اپنی اولاد کے متعلق فرمائی ہیں۔اور پھر ان خدائی بشارتوں کے باوجود جو حضور کو اپنی اولاد کے متعلق خدا کی طرف سے ملتی رہی ہیں۔اور پھر اس بات کے بھی باوجود کہ خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل وعیال کو وصیت سے مستثنی قرار دیا ہے۔میں ہمیشہ اپنے انجام سے متعلق خائف رہتا اور خدا سے بخشش کی دعا مانگتا رہتا ہوں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیارا قول کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا کہ حقیقتا نجات خدا کے فضل سے ہے نہ کہ انسان کے اپنے عمل سے۔میرا اصل مضمون تو اس جگہ ختم ہو گیا مگر ایک ضمنی سوال کا جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔وہ یہ کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی خاص جگہ میں دفن ہونا انسان کو جنتی بنادے جبکہ اخروی نجات خدا کے فضل پر موقوف ہے۔اور انسان کی نیکی اور دینداری اس کے فضل کی جاذب بنتی ہے؟ سوا اس کے متعلق اچھی طرح خیال رکھنا چاہئے کہ ہمارا ہرگز یہ عقیدہ نہیں کہ مقبرہ بہشتی کی مٹی کسی شخص کو جنتی بنا دیتی ہے بلکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بار بار صراحت فرمائی ہے۔چونکہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کے لئے نیکی اور دینداری اور قربانی کی شرط مقرر کی گئی ہے۔اس لئے مقبرہ بہشتی کے تعلق میں خدا تعالیٰ ایسا تصرف فرماتا ہے کہ وہی شخص اس مقبرہ میں دفن ہوتا ہے جو خدا کے علم میں جنتی ہوتا ہے۔پس مقبرہ بہشتی کی مٹی کسی کو جنتی نہیں بناتی بلکہ اس کے برعکس وہی شخص اس مقبرہ میں دفن ہونے میں کامیاب ہوتا ہے جو خدا کے علم میں اپنی دین داری اور نیکی کی وجہ سے جنتی ہوتا ہے۔اور اس کی نیکیوں کو اس کی کمزوریوں پر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔چنا نچہ کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک شخص بظاہر موصی ہونے کے باوجود اپنی کسی مخفی بے دینی کی وجہ سے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے سے محروم ہو گیا۔دوسری