مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 90 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 90

مضامین بشیر جلد چهارم 90 مگر اس معاملہ میں سب سے بڑی بات جو اعتراض کرنے والے صاحب کے قول کو سخت بھیانک صورت دے دیتی ہے وہ نظام وصیت کی خلاف ورزی سے تعلق رکھتی ہے۔جیسا کہ سب دوستوں کو علم ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیت کا نظام خدا تعالیٰ کے خاص ارشاد اور خاص بشارات کے ماتحت قائم کیا تھا اور اس کے لئے دین داری اور نیکی اور مالی قربانی کی شرط لگائی تھی اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ جولوگ ان شرائط کو پورا کر کے جماعتی نظام کے ماتحت مقبرہ بہشتی میں داخل ہوں گے وہ خدا کے فضل سے یقینا جنت میں جائیں گے۔اور اگر ان میں کوئی کمزوری بھی ہوگی ( کیونکہ کوئی نہ کوئی کمزوری کم و بیش اکثر انسانوں میں ہوتی ہے ) تو اللہ تعالیٰ ان کی نیکی اور قربانی اور اپنی ذرہ نوازی کی وجہ سے ان سے عفو اور بخشش کا سلوک فرمائے گا اور انہیں اپنے فضل سے جنت میں جگہ دے گا۔اور اسی لئے اس مقبرہ کا نام خدائی بشارت کے ماتحت بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت میں صراحت اور وضاحت سے فرماتے ہیں کہ: ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا۔اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں۔اس قبرستان کے لئے (خدا کی طرف سے ) بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اُنْزِلَ فِيهِ كُلُّ رَحْمَة۔یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اُتاری گئی ہے۔اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو ( علی قدر مراتب ) اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔“ رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 316-318) اس زبر دست خدائی بشارت کے ہوتے ہوئے جو شخص مقبرہ بہشتی کے کسی مدفون مرد یا مدفون عورت کے خلاف طعن اور اعتراض کی زبان کھولتا ہے وہ یقینا ایک خطرناک غلطی کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ وہ خدائی نظام وصیت پر بھی ایک ایسی ضرب لگاتا ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف خدا تعالیٰ کی غیر معمولی بشارتوں پر زد پڑتی ہے۔بلکہ نظام وصیت کے متعلق بھی جماعت میں بددولی کا رستہ کھلتا ہے اور اس کی کشش کو سخت دھکا لگتا ہے۔پس اس شخص کو تو بہ کرنی چاہئے ورنہ وہ یقینا خدا کے حضور خطا کار شمار ہوگا۔بے شک جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے کوئی نہ کوئی کمزوری اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے اور خدا کے خاص الخاص لوگوں یعنی نبیوں وغیرہ کے سوا کوئی شخص بھی کمزوریوں سے کلیتہ پاک نہیں۔اور ہوسکتا ہے بلکہ بالکل ممکن ہے کہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے والوں میں سے بھی بعض لوگوں میں کم و بیش کمزوریاں پائی جاتی ہوں۔مگر جب خدا نے جو عفو و غفور ہے