مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 89 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 89

مضامین بشیر جلد چهارم 89 پس ان صاحب کی پہلی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ایک فوت شدہ احمدی کے ذکر خیر کو ترک کر کے ذکرِ شر کا رستہ اختیار کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صریح ارشاد کے خلاف قدم مارا کہ اپنے مرنے والوں کو ذکر خیر سے یاد کیا کرو۔علاوہ ازیں کسی شخص کی نیکی یا کمزوری کا حقیقی علم صرف خدا کو ہے جو علام الغیوب ہے۔اور وہ اس بات کو بھی جانتا ہے کہ کسی انسان کی نیکیوں اور کمزوریوں میں سے کس کو غلبہ حاصل ہے۔انسان کی نظر اس معاملہ میں دھوکا کھا سکتی ہے لیکن خدا کبھی دھوکا نہیں کھاتا۔کیونکہ وہ دلوں کے پوشیدہ خیالات اور مخفی نیکیوں اور مخفی بدیوں تک کو جانتا ہے۔پس عقلاً بھی ایسے معاملات میں امن اور سلامتی کا طریق یہی ہے کہ انسان اپنے مرنے والے بھائی یا بہن کے متعلق حسن ظنی سے کام لے اور اپنی زبان کو بدگوئی سے بچا کر رکھے۔کیونکہ بدگمانی اور بد گوئی ہر حال میں بہت بری اور مکروہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ : تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بدگمان سے ڈرتے رہو عقاب خدائے جہان سے شائد تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شائد وہ بد نہ ہو جو تمہیں تمہیں ہے وہ بدنما شائد تمہارے فہم کا ہی کچھ قصور ہو شائد وہ آزمائش رب غفور ہو بندوں میں اپنے بھید خدا کے ہیں صد ہزار تم کو نہ علم حقیقت ہے : ہے آشکار پس تم بچاؤ اپنی زباں کو فساد سے ڈرتے رہو عقوبت رب العباد سے دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا وہ اک زباں ہے عضو نہانی ہے دوسرا ہے حدیث سیدنا سید الوری در شین اردو)