مضامین بشیر (جلد 4) — Page 241
مضامین بشیر جلد چہارم 241 رفتاری ملاحظہ کرو کہ اس نے یہ سارے خطرناک جنگل صرف ایک قدم میں ہی طے کر لئے۔یہ اس لئے کہ وہ اپنے محبوب خدا کی خاطر اپنے نفس پر موت وارد کر چکا تھا۔اس نے رضائے الہی کا تریاق حاصل کرنے کی غرض سے قربانی کا زہر کھا کر اپنے نفس کی لذات کو ختم کر دیا تھا۔اس قسم کی موت کے نیچے سینکڑوں زندگیاں پوشیدہ ہیں۔لہذا اگر تم خدا کے رستہ میں خاص الخاص زندگی کے خواہاں ہو تو آؤ تم بھی ایسی موت کا پیالہ چکھ کر زندہ جاوید ہو جاؤ پس دوستو اور عزیز و! ایک علاج تو یہی ہے جس سے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک زمانہ سے دوری کے اثر کوکسی قدر کم اور صحابہ کرام کی صحبت سے محرومی کی کمی کو کسی قدر پورا کر سکتے ہیں مگر یہ علاج بڑا مشکل، بڑا کٹھن اور بڑی جان جوکھوں کا کام ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس کے لئے ایک بڑی تلخ موت کے دروازے میں سے گزر کر از جہاں دباز بیرون از جہاں کا نظارہ پیش کرنا پڑتا ہے بلکہ دراصل اس شعر والی سولی پر چڑھنا پڑتا ہے کہ : درمیان قعر دریا تخته بندم کرده بازمی گوئی کہ دامن تر مکن ہوشیار باش اس کے لئے اس پر آشوب مادی زمانہ میں کتنے لوگ تیار ہیں؟ کم ، بہت کم ، بہت ہی کم بلکہ شاید لاکھوں انسانوں میں سے ایک بھی مشکل سے ملے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب کشتی نوح کو دیکھو اس پیمانہ پر کتنے احمدی نوجوانوں کو معیاری احمدی سمجھا جا سکتا ہے؟ مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں اپنی آنکھوں سے دیکھو اور اپنے دل سے جواب مانگو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ تعداد خدا کے فضل سے بہت کافی تھی مگر اس کے بعد زمانہ کی دوری اور مخلص صحابہ کی اموات کی کثرت نے قدیم سنت کے مطابق آہستہ آہستہ نقشہ بدلنا شروع کر دیا۔حتی کہ باغ احمد میں شیریں پیوندی پودوں کی جگہ سے ملے جلے کھٹے میٹھے تھی پودوں (یعنی نسلی احمد یوں) کی کثرت شروع ہوگئی اور اس کثرت کی شرح فی صد دن بدن خطرناک طور پر بڑھتی جا رہی ہے۔اسلام کے دور اول یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فدا نفسی ) کے زمانہ میں بھی اسلام کو یہی خطرہ پیش آیا تھا مگر اس وقت جہاد کا رستہ کھلا ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے جوش اخلاص و قربانی میں طبعی کمی کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا گیا تھا مگر یہاں ہماری تبلیغ میں بھی بھاری روکیں حائل ہیں۔کہیں مالی روکیں، کہیں بیرونی تنظیم کی روکیں اور کہیں اندرونی روکیں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ: