مضامین بشیر (جلد 4) — Page 240
مضامین بشیر جلد چهارم 240 آنے والوں سے آگے نکل سکتا ہے۔اس بشارت کے فلسفہ کی تشریح میں قرآن مجید نے السَّابِقُونَ الاولون کی دو طیف اصطلاحیں بیان کی ہیں جس میں یہی اشارہ ہے کہ بعض لوگ ( یعنی اوّلون ) تو وقت کے لحاظ سے آگے آکر فضیلت حاصل کر لیتے ہیں مگر بعض خوش قسمت لوگ ( یعنی ســابــقــون ) ایسے بھی ہوتے ہیں کہ پیچھے آتے ہیں مگر آگے پیچھے کی زنجیروں کو توڑ کر پہلے آنے والوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔جس طرح مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ چھ سال تک شدید مخالفت کرنے کے بعد مسلمان ہوئے مگر باوجود اس کے کہ وہ اپنی شاندار خدمات اور غیر معمولی اوصاف کی وجہ سے مینار کی طرح بلند و بالا حضرت ابوبکر صدیق کے سوا جو ہر جہت سے اول بھی تھے اور سابق بھی تھے تمام صحابہ سے جن میں حضرت عثمان اور حضرت علی اور حضرت ابو عبیدہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر اور قدیم صحابہ بھی شامل تھے آگے نکل گئے۔وَالْفَضْلُ بِالْخَيْرَاتِ لَا بِزَمَانِ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وقت اور زمانہ کی قیود کو توڑ کر آگے نکل جانے والوں میں حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کی مثال بھی بیان فرمائی ہے جن کی شہادت کی خبر سن کر آپ نے اپنی ایک نظم میں یہ حکیمانہ شعر فرمائے کہ: صد ہزاراں فرسخ تا کوئے یار دشت پر خار و بلائش صد ہزار شوخی ازاں شیخ عجم بنگر این شوخی ازاں این بیاباں کرد طی از یک قدم دلدار از خود مرده بود از لئے تریاق زہر خورده بود زیر این موت است پنہاں صد حیات زندگی خواهی بخور جام ممات تذکرة الشهادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 60-61) یعنی خدا کے کوچہ تک پہنچنے کے لئے لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اس میں کانٹوں کے جنگل ہیں اور ان جنگلوں میں بے شمار قسم کی بلائیں اور تکلیفیں اور آزمائشیں ہیں مگر ذرا اس کا بلی بزرگ کی ہمت اور تیز