مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 231 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 231

مضامین بشیر جلد چهارم 231 کے حامل عالمگیر کام کو پاکستانی حکومت کا کوئی مقامی ادارہ کس طرح اپنے ہاتھ میں لے سکتا اور اسے کس طرح چلا سکتا ہے؟ بے سوچے سمجھے اور حالات پر غور کرنے کے بغیر کوئی بات منہ سے کہہ دینا آسان ہے اور حکومت کے افسروں کو غلط رپورٹیں دے کر بدظن کرنے کی کوشش کرنا بھی مشکل نہیں مگر ہماری دانا اور بیدار مغز حکومت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتی ہے کہ اس قسم کے وسیع اور منقوع اور عالمگیر اور منظم اور مخصوص نوعیت کے کام کے مقابل پر مزاروں اور خانقا ہوں اور یتیم خانوں یا بعض مقامی تعلیمی اداروں کو کیا نسبت ہے؟ ( 10 ) ہماری حکومت خدا کے فضل سے سمجھدار اور معاملہ فہم اور انصاف پسند حکومت ہے مگر بہر حال وہ ایک انسانی حکومت ہے اور بشری تقاضے کے ماتحت بعض لوگوں کے غلط پراپیگنڈے کے نتیجے میں غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتی ہے اس لئے ہم ملک کے شریف اور انصاف پسند طبقہ سے عدل و انصاف کے نام پر اپیل کرتے ہیں کہ وہ خدا کے لئے غلط پراپیگنڈے سے اجتناب کریں اور اس قرآنی ارشاد کو یاد رکھیں کہ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائده:9) یعنی اے مسلمانوں تمہیں کسی قوم یا جماعت کی مخالفت ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل وانصاف کے رستہ قف سے ہٹ جاؤ۔تمہارا فرض ہے کہ ہر حال میں انصاف پر قائم رہو کیونکہ یہی تقویٰ کا تقاضا ہے۔( 11 ) بالآخر میں نہایت عاجزی سے اپنے آسمانی آقا اور زمین و آسمان کے خالق و مالک خدا سے التجا کرتا ہوں کہ تو غیوں کو جاننے والا ، قادر و مطلق اور مصرف القلوب خدا ہے۔تو جانتا ہے کہ ہماری جماعت تیری از لی مشیت کے ماتحت اسلام کی اشاعت اور اسلام کی خدمت کی غرض سے قائم کی گئی ہے اور ہم تیرے افضل الرسل حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنیٰ خادم اور حضور کے در کے حقیر غلام ہیں اور جیسا کہ تو نے خود قرآن میں فرمایا ہے۔تو یہ بھی جانتا ہے کہ ابتداء میں ہر روحانی مصلح کی جماعت کئی قسم کی بدگمانیوں اور غلط فہمیوں بلکہ ہنسی مذاق کا نشانہ بنا کرتی ہے۔پس اے ہمارے آسمانی آقا! تو ان لوگوں کے دلوں میں نور پیدا کر اور انہیں صداقت کی روشنی سے منور فرما جو ہمارے متعلق دانستہ یا نادانستہ کئی طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور ان پر ہمارے دلوں کی حقیقت کھول دے اور تو پاکستان کی حکومت کو بھی ہر حال میں صراط مستقیم پر قائم رکھ اور اس کا حافظ و ناصر ہو اور اسے اندرونی اور بیرونی امن اور استحکام عطا فرما اور ہر نوع کی ترقی سے نواز۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - (محررہ 19 جون 1961ء) روزنامه الفضل ربوه 22 جون 1961ء)