مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 713 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 713

مضامین بشیر جلد سوم (ب) بیوی کے ساتھ مجامعت کرنے میں کنٹرول اور اس کی تحدید اور روک تھام۔(ج) بعض آلات کا استعمال جن سے وقتی طور پر حمل قرار پانے میں روک ہو جاتی ہے۔(د) بعض مانع حمل ادویہ کا استعمال۔(ھ) بعض عمل جراحی کے طریقے۔(و) حمل قرار پانے کے بعد حمل گرانے کی تدابیر۔(5) ان طریقوں میں سے: 713 (الف) بعض غیر یقینی ہیں۔یعنی با وجود احتیاط کے بعض اوقات حمل قرار پا جاتا ہے۔جیسے کہ عزل کا معروف اور دیر سینہ طریق ہے۔(ب) بعض جنسی تسکین میں روک بن جاتے ہیں۔(ج) بعض صحت کے لئے مضر ہو سکتے ہیں۔(1) بعض مستقل طور پر مانع حمل ہیں۔اس لئے اگر بعد میں خاوند بیوی کو مزید اولاد کی خواہش پیدا ہویا خدانخواستہ پہلی اولا د فوت ہو جائے تو ایک بھاری مصیبت اور بڑی حسرت کا موجب بن جاتے ہیں۔(ھ) اور بعض ناجائز اور خلاف قانون ہیں (جیسا کہ حمل کا گرانا) سوائے اس کے کہ با قاعدہ ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت اختیار کئے جائیں۔(6) اس لئے مستقل طور پر اولا د کا رستہ بند کرنا تو کسی طرح درست اور مناسب نہیں۔سوائے اس کے کہ عورت کی زندگی یا صحت کو بچانے کے لئے بصورت مجبوری ڈاکٹری ہدایت کے ماتحت یہ رستہ اختیار کیا جائے۔قرآن مجید فرماتا ہے: لَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقره: 196) یعنی اے مسلمانو! اپنے ہاتھوں سے اپنی ہلاکت کا سامان نہ پیدا کرو۔(7) اصولی طور پر مقدس بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے اولاد کی کثرت کو پسند فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: (الف) تَزَوَّجُو الْوَلُودَ الْوَدُوْدَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ (ابوداؤ دونسائی۔کتاب النکاح) یعنی اے مسلمانو! تم ایسی بیویوں کے ساتھ شادی کیا کرو جو زیادہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور خاوندوں کے ساتھ محبت کرنے والی ہوں ( تا کہ خاوندوں کو ان کی طرف رغبت اور کشش پیدا ہو ) کیونکہ میں دوسرے نبیوں کی امتوں کے مقابل پر قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔