مضامین بشیر (جلد 3) — Page 712
مضامین بشیر جلد سوم 712 میں کسی تفصیلی سکیم کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن امید کی جاتی ہے کہ اگر حکومت نے اس بارے میں کوئی فیصلہ گن قدم اٹھایا بھی تو ایک اسلامی حکومت ہونے کی وجہ سے وہ اس معاملے میں قرآن وحدیث کے ارشادات کو بھی ضرور ملحوظ رکھے گی۔اور بہر حال اس کا فیصلہ کسی جبری سکیم کی صورت میں نہیں ہوگا ( اور غالباً ایسا ہونا ممکن بھی نہیں ) بلکہ صرف ضروری اطلاعات مہیا کرنے اور تربیتی مراکز قائم کرنے اور بعض مخصوص ہسپتال جاری کرنے تک محدودر ہے گا۔(2) اس سوال کی تہہ میں جو مختلف وقتوں میں اور مختلف ملکوں میں اٹھتا رہا ہے عموماً کئی قسم کے خیالات کارفرما رہے ہیں۔مثلاً : (الف ) ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے جگہ کی کمی۔(ب) ملک میں خوراک کی قلت ( ج ) ملک میں بسنے والوں کی عمومی غربت اور ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے کا احساس۔( د ) اولاد کی بہتر پرورش کرنے اور انہیں اچھی تعلیم دلانے کی ضرورت۔(ھ) عورتوں کی صحت کو برقرار رکھنے کا احساس۔( و ) عورتوں کے حسن و جمال کو بصورت احسن قائم رکھنے کا خیال۔( ز ) عورتوں میں ملازمت اختیار کرنے اور آزادانہ زندگی بسر کرنے کا رجحان۔(3) ان حالات کا علاج مختلف حالات میں عموماً بصورت ذیل کیا جاتا رہا ہے: (۱) خاندانی منصوبہ بندی یعنی برتھ کنٹرول جس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔(ب) بڑی عمر میں نکاح کرنا۔( ج ) ملکی دولت اور خصوصاً خوراک کی پیداوار بڑھا کر عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا۔( د ) قومی صحت میں ترقی کے حالات پیدا کرنا۔(ھ) بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے مستعمرات کی تلاش یعنی دوسرے ملکوں میں اپنی آبادی کے لئے جگہ بنانا۔( و ) ملک کی اکانومی (Economy) کو صنعت و حرفت کی طرف منتقل کرنا۔(4) برتھ کنٹرول کے لئے عموماً یہ طریقے استعمال کئے جاتے ہیں : (الف) عزل یعنی انزال سے قبل بیوی سے علیحدہ ہو جانا جو پرانا طریق تھا اور عارضی برتھ کنٹرول کا رنگ رکھتا ہے۔