مضامین بشیر (جلد 3) — Page 714
مضامین بشیر جلد سوم 714 (ب) اور قرآن مجید فرماتا ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ ص فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ، وَقَدِمُوا لأنفُسِكُمْ (البقرة:224) یعنی تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں جن سے تمہاری نسل کی فصل پیدا ہوتی ہے۔پس اپنی کھیتیوں کے پاس جب اور جس طرح پسند کرو آؤ اور اپنے مستقبل کے لئے اچھے حالات پیدا کرو۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بیویوں کے ساتھ مباشرت کرنے میں اس پہلو کو کبھی نظر انداز نہ کرو کہ انہی کے ذریعہ سے تمہاری نسل کا سلسلہ چلتا اور تمہارے مستقبل کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔(8) مگر صحت کی غرض سے یا سفر کی حالت میں جبکہ بعض اوقات مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے عزل یعنی عارضی برتھ کنٹرول کی اجازت بھی دی گئی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (الف) سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ ( صحیح مسلم) یعنی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل یعنی وقتی برتھ کنٹرول کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ہر نطفہ سے تو بچہ پیدا نہیں ہوا کرتا۔اس سے یہ مراد ہے کہ اگر کسی خاص ضرورت کے وقت عزل کر لو تو اس پر حرج نہیں۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ عزل کا لفظ جو حدیث میں آتا ہے اس کے معنی وقتی اور عارضی برتھ کنٹرول کے ہیں۔مستقل طور پر سلسلہ ولادت کو روکنے کے نہیں ہیں۔(ب) اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں: مَا عَلَيْكُمْ أَوَ لَا عَلَيْكُمْ أَن لَّا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ ( صحیح بخاری کتاب العتق ) یعنی کیا حرج ہو گا اگر تم عزل یعنی برتھ کنٹرول نہ کرو۔یا یہ کہ میں تمہیں عزل سے رکنے کا حکم نہیں دیتا کیونکہ یہ اولادکو روکنے کا کوئی قطعی اور یقینی ذریعہ نہیں ہے ) خدا جس وجود کو پیدا کرنا چاہے اسے عزل کے با وجود پیدا کر سکتا ہے۔اس حدیث سے حضرت ابن سیرین اور علامہ قرطبی اور بہت سے دوسرے ائمہ نے استدلال کیا ہے کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نا پسندیدگی پر دلالت کرتے ہیں۔گوجیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے غالباً یہ نا پسندیدگی زیادہ سخت قسم کی نہیں ہے۔