مضامین بشیر (جلد 3) — Page 669
مضامین بشیر جلد سوم 669 روح اور اس پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ نہ پایا جائے تو ایسی جماعت خدا کے حضور کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔بلکہ وہ صداقت کو بدنام کرنے والی ثابت ہوگی۔لیکن اگر مسلمان یا احمدی ہوں تو تعداد میں تھوڑے مگر جتنے بھی ہوں وہ پختہ اور سچے مومن ہوں جن کا عمل خدا کے منشاء کے مطابق ہو تو یہ تھوڑی سی جماعت بھی خدا کے حضور بڑ اوزن رکھے گی۔اسی کی طرف قرآن مجید کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ (البقره:250) یعنی کتنی تھوڑی سی جماعتیں ہوتی ہیں جو اپنی قلت کے باوجود اپنے خالص ایمان اور صحیح عمل کے ذریعہ خدا کی نصرت سے ایسی بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں جو تعداد میں زیادہ ہونے کے باجود سچے ایمان اور عمل صالح سے محروم ہوتی ہیں۔پس اس وقت اپنے نوجوان عزیزوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ نام کے احمدی نہیں بلکہ کام کے احمدی بنو۔جس کے بعد تم میں وہ برقی طاقت بھری جائے گی جس کے سامنے کوئی اور طاقت نہیں ٹھہر سکتی اور تم خدا کی ایک پیاری اور محبوب جماعت بن جاؤ گے جس پر ہر وقت خدا کے فضل ورحم کا سایہ رہے گا۔یہ سوال کہ تربیت کا پروگرام کیا ہونا چاہئے ایک لمبا سوال ہے جس کا دو حرفوں میں جواب نہیں دیا جا سکتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتی ہیں کہ : كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ یعنی آپ کے اخلاق کا نقشہ دیکھنا چا ہو تو قرآن کو دیکھ لو لیکن قرآن ایک بڑی وسیع کتاب ہے جس کے ظاہری احکام بھی سات سو سے کم نہیں اور اس کی تفسیر اس کے ظاہری حجم سے بھی بہت زیادہ بڑی ہے۔جس کی تشریح میں بڑے بڑے علماء نے سینکڑوں جلدیں لکھنے کے بعد تھک کر اور ماندہ ہو کر اپنے قلم ہاتھ سے رکھ دیئے اور قیامت تک یہی ہوتا چلا جائے گا۔کیونکہ کائنات عالم کی طرح قرآن ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔اس لئے میں اس جگہ خدام الاحمدیہ کے سامنے قرآن مجید کی صرف ایک آیت پیش کرتا ہوں جو ان کے تربیتی پروگرام کے آغاز کی بنیاد بن سکتی ہے۔یہ وہ آیت ہے جسے قرآن نے اپنے شروع میں ایک بنیادی اصول کے طور پر بیان فرمایا ہے تا کہ قرآن پڑھنے والا اسے شروع سے ہی اپنے سامنے رکھ کر اپنی روحانی اور اخلاقی تربیت کا پروگرام مرتب کر سکے۔فرماتا ہے: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ 0 (البقره:4) یعنی سچے مومنوں کا یہ کام ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسولوں پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور اپنی