مضامین بشیر (جلد 3) — Page 670
مضامین بشیر جلد سوم 670 نمازوں کو حضور قلب سے با قاعدہ ادا کرتے ہیں۔اور جو کچھ بھی ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خدا اور خدائی جماعت کی خدمت میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔اس لطیف آیت میں مومنوں کے تین بڑے کام بتائے گئے ہیں۔ایک یہ کہ خدا اور اس کے رسولوں اور تمام غیب کی باتوں پر دل سے ایمان لانا کیونکہ سچا ایمان وہ پانی ہے جس سے عمل صالح کا باغ پرورش پاتا اور پروان چڑھتا ہے۔اور خدا کی ذات دین کا وہ مرکزی نقطہ ہے جس سے ہر نیکی کی نہر نکلتی ہے اور اس کے رسول اس کے منشاء کو دنیا میں ظاہر کرنے اور اس کے لئے عملی نمونہ بننے کے لئے آتے ہیں۔دوسرے نمبر پر اپنے خالق و مالک کی عبادت کرنا ہے جس میں نماز ستون نمبرا کا حکم رکھتی ہے۔کیونکہ یہ وہ مقدس تار ہے جو خالق اور مخلوق کو آپس میں باندھتی ہے۔اس لئے نماز کو معراج المومنین کا نام دیا گیا ہے۔یعنی وہ سیڑھی ہے جو بندے کو خدا تک پہنچاتی اور انسان کو نیکی کی بلندیوں تک اٹھاتی چلی جاتی ہے۔لیکن جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کچی نماز وہ ہے جس میں نماز پڑھنے والا یہ محسوس کرے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور میں خدا کو دیکھ رہا ہوں۔بعض اوقات ایسی ایک نماز ہی انسان کی کایا پلٹ دیتی ہے۔تیسرے نمبر پر خدا کے رستہ میں خرچ کرنا ہے یعنی جو جو رزق یا انعام انسان کو خدا کی طرف سے ملا ہے خواہ وہ مال ہے یا دل و دماغ کے قومی ہیں یا جسم کی طاقتیں ہیں یا علم ہے یا زندگی کے اوقات ولمحات ہیں ان سب میں سے خدا اور اس کی مخلوق کا حق نکالنا۔کسی کے پاس مال ہے تو وہ خدا کے رستہ میں چندہ دے۔دل و دماغ کی طاقتیں ہیں تو انہیں خدا کے رستے میں لگائے۔جسم کی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرے۔علم ہے تو اس سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچائے۔زندگی کے لمحات کا کچھ حصہ لا زمادین کی خدمت میں صرف کرے وغیرہ وغیرہ۔یہ وہ تین بنیادی باتیں ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کے شروع میں مسلمانوں کے تربیتی پروگرام کی بنیاد کے طور پر بیان کیا ہے۔اور میں اس جگہ ان ہی کی طرف خدام الاحمدیہ ربوہ کو توجہ دلاتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ اگر وہ ان تین بنیادی باتوں کو پاک نیت اور دلی اخلاص کے ساتھ اپنے تربیتی پروگرام کا حصہ بنائیں گے اور ان پر مضبوطی سے قائم رہیں گے تو انشاء اللہ ان کا ہر قدم ترقی کی طرف اٹھتا چلا جائے گا۔اور ان کے لئے آسمان سے ایک نئے عالم کا دروازہ کھولا جائے گا۔یہی وہ عالم ہے جس کے لئے کسی نے کہا ہے کہ: بیادر ذیل مستاں تابه بینی عالمی دیگر بہشتے دیگر و ابلیس دیگر آدم دیگر