مضامین بشیر (جلد 3) — Page 668
مضامین بشیر جلد سوم 668 اور یا درکھنا چاہئے کہ جیسا کہ سیاق سباق سے ظاہر ہے اس جگہ دیوانے سے کوئی پاگل یا مجنون انسان مراد نہیں بلکہ ایسا شخص مراد ہے جو کسی مقصد کو سامنے رکھ کر اس کے حصول کے لئے گویا دیوانہ وار کوشش کرے۔اور اپنی ظاہری طاقت اور قوت سے بڑھ کر ہمت اور جدو جہد سے کام لے اور اپنی جسمانی اور مادی حد بندیوں کو نظر انداز کرتا ہوا اپنے مقصد کے حصول کے لئے آگے بڑھتا چلا جائے۔وَمَا ذَالِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزِ وَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ مُنِيبٍ ( محررہ 26 جولائی 1959 ء ) روزنامه الفضل ربوہ 30 جولائی 1959ء) 2 خدام الاحمدیہ ربوہ کا تربیتی پروگرام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا یہ قیمتی اور جامع پیغام اس تربیتی جلسہ میں پڑھا گیا جو مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ کے زیر اہتمام مؤرخہ 30 جولائی کو بعد نماز مغرب بیت مبارک میں منعقد ہوا) مجھے خدام الاحمدیہ ربوہ کے قائمقام قائد نے اطلاع دی ہے کہ وہ خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے ماتحت ربوہ میں ایک تربیتی جلسہ منعقد کر رہے ہیں جس میں نوجوانوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کا پروگرام مرتب کر کے ان کی تربیت کی مہم شروع کی جائے گی۔مجھے اس اطلاع سے بہت خوشی ہوئی کیونکہ جیسا کہ قرآن مجید نے اشارہ فرمایا ہے بنی نوع انسان کی تربیت دینی مساعی کا آدھا حصہ ہوتی ہے۔ایک حصہ تبلیغ سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا حصہ تربیت سے تعلق رکھتا ہے۔تبلیغ کے ذریعہ غیر از جماعت لوگوں کو جماعتی عقائد کی صداقت کا یقین دلا کر ان کو جماعت کے اندر آنے اور جماعت کے نظریات کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔جسے قرآن مجید نے يَدْعُونَ إِلَى الخَیر کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔اور تربیت کے ذریعہ ان لوگوں کو جو جماعت میں شامل ہیں روحانی اور اخلاقی لحاظ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے اور اس مقام پر قائم رہنے کے قابل بنایا جاتا ہے جس کے لئے قرآن نے يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ تربیت کا کام کسی طرح تبلیغ کے کام سے کم نہیں ہے۔بلکہ بعض لحاظ سے اور بعض اوقات میں اس سے بھی زیادہ اہم اور قابل توجہ ہے۔ظاہر ہے کہ اگر ہم ساری دنیا کو بھی مسلمان یا احمدی بنالیں مگر یہ مسلمان یا احمدی صرف نام کے مسلمان اور نام کے احمدی ہوں اور ان میں صداقت کی