مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 453 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 453

مضامین بشیر جلد سوم 453 کرنے سے نہیں رکیں گے۔مگر کیا کوئی شخص یہ ثابت کر سکتا ہے کہ کسی زیر سزا انسان کو نائیوں اور دھوبیوں اور بھنگیوں کی خدمت سے محروم کیا گیا ہو؟ یا خوردونوش کی ضروری چیزوں کی فروخت کا رستہ بند کر دیا گیا ہو؟ یا بیماری کی صورت میں ضروری طبی امداد روک دی گئی ہو ؟ ایسا ہر گز نہیں اور ہر گز نہیں۔بلکہ ضروری انسانی خدمت کا رستہ ہمیشہ کھلا رکھا جاتا ہے۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں جماعتی مجرم کی اصلاح اور تادیب کی غرض سے اور دوسروں میں بھی یہ احساس پیدا کرانے کے لئے صرف ایک جزوی اور مشروط اور محدود اخلاقی قسم کے مقاطعہ کی اجازت دی جاتی ہے۔لیکن افسوس کہ ہماری بار بار کی تصریحات کے باوجود ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم بعض دوسرے لوگوں کا مکمل سوشل بائیکاٹ کر کے ان کو ضروری انسانی خدمت تک سے محروم کر دیتے اور ملک و قوم میں فساد کا رستہ کھولتے ہیں۔افسوس صد افسوس !! پھر یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ ہماری طرف سے جماعت کے دینی اور تنظیمی مجرموں کے خلاف جس قسم کے جزوی مقاطعہ کا کبھی کبھی فیصلہ کیا جاتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق صرف وقتی اور میعادی ہوا کرتا ہے۔اور یہ مقاطعہ اگر اسے مقاطعہ کہا جائے صرف اس وقت تک کے لئے ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کا پاؤں گویا دو کشتیوں میں سمجھا جاتا ہے۔یعنی ایک شخص ایک طرف جماعت کا فرد ہونے کا بھی اقرار کرتا ہے اور پھر دوسری طرف وہ اس کی تنظیم کو بھی توڑتا ہے۔لیکن جب ایسا شخص قولا یا عملاً اپنے آپ کو کبھی طور پر جماعت سے کاٹ لے اور مستقل طور پر علیحدہ ہو جائے اور اس کا جماعت سے کسی قسم کا واسطہ نہ رہے تو پھر لازماً حالات میں نارمل (Normal) صورت پیدا ہونے کے بعد یہ مقاطعہ عملاً ختم ہو جاتا ہے۔گواس بات کا فیصلہ امام کے ہاتھ میں ہے کہ نارمل حالت کس وقت سمجھی جاسکتی ہے۔بعض اخبار والوں نے جن میں افسوس ہے کہ نوائے وقت لاہور بھی شامل ہے حالانکہ عام حالات میں وہ ایک بہت سنجیدہ اور باوقار اور صاحب رائے پرچہ سمجھا جاتا ہے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر جماعت احمد یہ اپنی جماعت کے بعض لوگوں کے خلاف ان کی کسی تنظیمی غفلت یا اختلاف رائے کی بناء پر مقاطعہ کا فیصلہ کر سکتی ہے تو پھر دوسرے مسلمانوں کو جماعت احمدیہ کے متعلق اسی قسم کے حالات میں اس فیصلہ کا کیوں اختیار نہیں ؟ یہ سوال خاص طور پر نوائے وقت لاہور نے اٹھایا ہے۔مگر ادنی شعور سے بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ ایک بالکل قیاس مع الفارق کی صورت ہے۔اور دونوں قسم کے حالات میں کوئی دور کی بھی نسبت نہیں۔جماعت کی طرف سے جن لوگوں کو کبھی کبھی مشروط اور محدود قسم کے مقاطعہ کی سزادی گئی ہے وہ کبھی بھی محض دیانت دارانہ اختلاف عقائد کی بناء پر نہیں دی گئی۔بلکہ اس بناء پر دی گئی ہے کہ ایسے لوگ بظاہر جماعتی تنظیم کے اندر رہنے کا