مضامین بشیر (جلد 3) — Page 454
مضامین بشیر جلد سوم 454 دعوی کرتے ہوئے اور ایک امام کے ہاتھ پر بیعت کا عہد باندھتے ہوئے پھر خفیہ سازش اور فساد کے رنگ میں اس تنظیم کو توڑتے اور جماعت میں فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ورنہ دنیا جانتی ہے کہ احمدیت کا وہ حصہ جو غیر مبائعین کہلاتا ہے اور جسے بعض لوگ جوابی رنگ میں بعض اوقات پیغامی بھی کہہ دیتے ہیں۔ان کے ساتھ با وجود کافی اختلاف کے ہمارا کوئی مقاطعہ نہیں۔کیونکہ انہوں نے کھلے طور پر عقیدہ کا اختلاف کیا اور ہم سے بالکل کٹ کر اور جدا ہو کر ایک علیحد تنظیم قائم کر لی۔بے شک شروع میں ان میں سے بعض نے خفیہ کارروائیاں کیں مگر وہ وقت گزر گیا۔اور اب ان لوگوں نے ایک علیحدہ تنظیم قائم کر کے اپنے جدا گانہ عقائد پر مستقل مخالفت کی بنیاد قائم کر رکھی ہے۔اس لئے ہمارا ان سے کوئی مقاطعہ نہیں ہے۔لیکن جن لوگوں نے جماعت کے اندر رہتے ہوئے اور ایک امام کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہوئے اپنے مخالفانہ خیالات کو خفیہ خفیہ رنگ میں پھیلایا اور سازش کا طریق اختیار کیا۔اور امام اور جماعت کے خلاف ملک وقوم میں دینی اور اخلاقی فتنہ برپا کیا انہیں تا وقتیکہ امام کی رائے میں نارمل (Normal) حالات پیدا ہو جائیں (یعنی یا تو وہ تو بہ کر کے سچے دل سے واپس آجائیں یا ہم سے کلی طور پر کٹ کر مستقل صورت میں علیحدہ ہو جائیں) ایک قسم کے جزوی اور مشروط مقاطعہ کی سزادی جاتی ہے۔کیونکہ جیسا کہ ہر عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے ایسے لوگ ضرور اس وقت تک اخلاقا اور شرعاً اس سلوک کے قابل ہیں کہ اصلاح کی نیت سے ان سے علیحدگی اختیار کی جائے۔لیکن کیا محترم ایڈیٹر صاحب نوائے وقت یا کوئی اور معترض بزرگ بتا سکتے ہیں کہ ہم نے کبھی اپنے غیر احمدی احباب کا اس رنگ میں اور اس نوع کا جرم کیا ہو جس کی وجہ سے ہمیں ان کی طرف سے سوشل بائیکاٹ کا سزاوار سمجھا جائے؟ پھر کیا دوسرے مسلمانوں کی کوئی ایسی جماعتی تنظیم ہے یا کوئی ایسا مسلّمہ امام ہے جس سے ہم نے بغاوت کر کے علیحدگی اختیار کی ہو؟ باقی رہا عقائد کے اختلاف کا معاملہ سو وہ ایک بالکل جدا گانہ امر ہے جس سے اسلام کا کوئی فرقہ بھی مستقلی نہیں۔یہ وہ کھلے کھلے اور روشن حقائق ہیں جن پر ہمارے کرم فرماؤں کو دیانتداری کے ساتھ غور کرنا چاہئے۔ورنہ دنیا سن لے کہ خدا ہم میں سے ہر فریق کو دیکھ رہا ہے اور وہ اسی کے مطابق ہم سے سلوک کرے گا۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيمِ نوٹ: ہم اپنے صاف دل مہربانوں سے دوبارہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ بخاری والی حدیث پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔اور پھر سوچیں کہ جماعت احمدیہ کا رویہ اس حدیث کے عین مطابق ہے یا نہیں؟ مجھے افسوس ہے کہ اس وقت اپنی علالت کی وجہ سے میں اس ضروری امر کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کر