مضامین بشیر (جلد 3) — Page 452
مضامین بشیر جلد سوم 452 بیوی کو ہدایت فرمائی کہ وہ بہر حال اپنے بوڑھے خاوند سے کلام سلام تو نہ کرے اور ازدواجی تعلقات سے بھی مجتنب رہے۔مگر ویسے اس کے بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے اس کی ضروری خدمت بجالاتی رہے۔مثلاً اس کا کھانا پکا دے یا اس کے لئے پانی مہیا کر دے یا دوائی وغیرہ کا انتظام کر دے یا اس قسم کی کوئی اور خدمت بجالائے جو انسانیت کے بنیادی حقوق سے تعلق رکھتی ہو اور ایسا کام خاوند کی طاقت سے باہر ہو۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ در اصل مقاطعہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک جزوی مقاطعہ ہوتا ہے اور دوسرا مکمل سوشل بائیکاٹ۔چنانچہ جزوی مقاطعہ تو یہ ہے کہ کسی جماعتی قصور یا غفلت کے ارتکاب پر کسی شخص کے متعلق حکم دیا جائے کہ اس کے ساتھ دوسرے لوگ کلام سلام بند کر دیں۔تا کہ اس کے اندر ندامت کا احساس پیدا ہو اور وہ تو بہ اور اصلاح کی طرف قدم اٹھائے۔لیکن اس محدود قسم کے مقاطعہ میں انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والی ضروری خدمت سے روکا نہیں جاسکتا۔ورنہ وہ نا جائز سوشل بائیکاٹ کی حدود میں داخل ہو جائے گا جسے پنجابی محاورہ میں حقہ پانی بند کرنا کہتے ہیں۔جس میں حالات کو کلی طور پر نظر انداز کر کے ہر جہت اور ہر پہلو سے پورا پورا قطع تعلق کر لیا جاتا ہے۔اور ایک انسان کو گویا مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔مثلاً یہ کہ نائی یا دھوبی یا بھنگی خدمت کرنے سے انکار کر دیں یا کھانے پینے کی ضروری چیزوں کی فروخت کا رستہ بند کر دیا جائے۔یا یہ کہ بیماری کی صورت میں ادویہ کی فروخت اور ضروری طبی امداد تک روک دی جائے۔یہ باتیں انسانیت کے بنیادی حقوق اور خدمت خلق کے لازمی حصہ سے تعلق رکھتی ہیں۔اور ان سے کسی صورت میں بھی روکا نہیں جاسکتا۔البتہ کلام سلام یا دوستانه میل ملاقات وغیرہ کے معاملہ میں مقاطعہ ثابت ہے اور ہمارے رحیم و کریم آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس قسم کے مقاطعہ پر عمل کیا اور اس کا حکم دیا ہے۔دراصل ایسا مقاطعہ بعض حالات میں اصلاح کا ضروری ذریعہ ہے۔جو جماعتی تنظیم اور جماعتی نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لئے بعض اوقات اختیار کرنا پڑتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے تین صحابیوں کے مقاطعہ کا اس حد تک حکم دیا ہے کہ خود ان کے اپنے الفاظ میں ” دنیا ان کی نظروں میں بدل گئی اور قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں کہ دنیا اپنی وسعت کے باوجودان پر تنگ ہوگئی۔مگر باوجود اس کے ان پر لازمی اور ضروری انسانی خدمت کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ہمارے مخالفوں کو چاہئے کہ اس حدیث پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور اس کی روشنی میں ہمارے مسلک کو دیکھیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم نے کبھی اپنے کسی جماعتی مجرم کا ایسا سوشل بائیکاٹ نہیں کیا جس میں کلی اور غیر محدود مقاطعہ کا رنگ پایا جاتا ہو۔بلکہ ہر ایسے موقع پر ضروری انسانی خدمت کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔مخالفوں میں سے جھوٹ بولنے والے تو جھوٹ بولتے ہی جائیں گے اور افتراء کرنے والے افتراء