مضامین بشیر (جلد 3) — Page 276
مضامین بشیر جلد سوم 276 کے اندر جانے والے لوگ اس عمارت کی موٹی موٹی تفاصیل پر آگاہ ہو جا ئیں۔بعینہ یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے ماتحت سورہ فاتحہ کو قرآن مجید کے شروع میں رکھا گیا ہے۔یہ سورۃ دراصل قرآن مجید کا خلاصہ ہے جو بطور ایک مختصر خاکہ کے اس کے ماتھے پر لٹکا دیا گیا ہے۔تا کہ اس عظیم الشان عمارت میں داخل ہونے والا انسان شروع میں ہی جان لے کہ اسے کن ہالوں اور کن کمروں اور کن محفوظ خرز بینوں اور کن گیلریوں اور کن برآمدوں اور کن صحنوں کے ساتھ واسطہ پڑنے والا ہے۔اسی لئے اس سورۃ کا نام فاتحہ رکھا گیا ہے۔جس کے معنے کنجی کے ہیں کیونکہ یہ وہ کنجی ہے جس سے قرآن عظیم کی عمارت کا دروازہ کھلتا ہے۔اس سورۃ کا ابتدائی نصف حصہ خدا کی ان چار بنیادی صفات پر مشتمل ہے جو دراصل الوہیت کا مرکزی نقطہ ہیں یعنی صفت رَبِّ الْعَالَمِينَ اور صفت رَحْمن اور صفت رَحِیم اور صفت مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔بیشک خدا کی صفات بے شمار ہیں بلکہ اگر انہیں خدا کی ذات کی طرح بے حد و حساب کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔مگر وہ بنیادی صفات جن پر قرآنی شریعت کا تخت قائم ہے یہی چار صفات ہیں جنہیں سورہ فاتحہ کے شروع میں بیان کیا گیا ہے۔سب سے پہلی صفت یعنی صفت رَبِّ الْعَالَمِینَ انسانی زندگی کی ابتداء کی طرف اشارہ کرنے کے علاوہ اس بات کے اظہار کے لئے بیان کی گئی ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ علیحدہ علیحدہ قوموں اور علیحدہ علیحدہ زمانوں کے لئے وقتی اور قومی شریعتیں نازل کرنے کی بجائے ایک عالمگیر اور دائمی شریعت نازل کی جائے۔تا جس طرح خدا رب العالمین ہے اس کی یہ شریعت بھی تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے تعلیم و تربیت کا مرکزی نقطہ بن جائے۔بے شک خدا ہمیشہ سے رب العالمین تھا اور ہے۔مگر اس کی ازلی حکمت نے یہ تقاضا کیا کہ شروع میں تدریجی طور پر محدود شریعتوں کے ذریعہ مختلف قوموں کی تربیت کی جائے اور پھر بالآخر اس کی صفت رب العالمین کا بر ملا ظہور ہو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور قرآن شریف کے نزول کے ذریعہ مقدر تھا۔اس کے بعد صفت رحمن اور صفت رحیم کو رکھا گیا ہے۔تا اس بات کی طرف اشارہ کیا جائے کہ خدا نے انسان کو پیدا کر کے شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا بلکہ صفت رحمانیت کے ماتحت اس کے لئے ہر قسم کی ہدایت اور ترقی کے سامان پیدا کئے ہیں اور پھر صفت رحیمیت کے ماتحت انسان کے ہر عمل میں یہ تاثیر ودیعت کی ہے کہ وہ اسے درجہ بدرجہ کمزوری سے طاقت کی طرف لے جاتا چلا جاتا ہے۔گویا جہاں خدا کی صفت رحمانیت ترقی کے سامان مہیا کرتی ہے وہاں اس کی صفت رحیمیت ایسی سیڑھی کے قد بچوں کا کام دیتی ہے جو انسان کو ہر آن اوپر اٹھاتے چلے جاتے ہیں۔