مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 275 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 275

مضامین بشیر جلد سوم 275 ترتیب ضرور ملحوظ رکھی گئی ہے۔ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ اس کے نزول کی ترتیب کو بدلا جاتا۔اس کی موٹی مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ ایک شخص کوئی جلسہ منعقد کر کے اس کے لئے لوگوں کو شرکت کی دعوت دے۔اب اگر وہ جلسہ میں آنے والے لوگوں کو ان کے آنے کی ترتیب سے نہیں بٹھا تا بلکہ کسی اور ترتیب سے بٹھاتا ہے تو ظاہر ہے کہ محض یہ تبدیلی ہی اس بات کی دلیل ہوگی کہ خواہ لوگ اس ترتیب کو سمجھیں یا نہ سمجھیں بہر حال بٹھانے والے کے ذہن میں کوئی نہ کوئی ترتیب ضرور مد نظر ہے اور غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترتیب نہایت درجہ گہرے نفسیاتی اصولوں پر قائم کی گئی ہے۔دراصل قرآن مجید کی غرض وغایت کسی تاریخی ریکارڈ کو محفوظ کرنا نہیں ہے۔بلکہ اس کا واحد مقصد بنی نوع انسان کی ایمانی اور علمی اور اخلاقی اور روحانی اصلاح ہے اور لازماً اسی مقصد اور اس کے لوازمات کے اردگرد ہی قرآن کی ساری ترتیب گھومتی ہے۔اس کے بعد میں بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح اس لطیف غرض و غایت کے ماتحت قرآن مجید کی سب سے پہلی سورۃ یعنی سورہ فاتحہ اور سب سے آخری سورتوں یعنی سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورۃ الناس کوان کے نزول کی ترتیب سے ہٹا کر قرآن مجید کے شروع اور آخر میں رکھ دیا گیا ہے۔ہر واقف کا رشخص جانتا ہے کہ نہ تو سورہ فاتحہ سب سے پہلے نازل ہوئی اور نہ ہی سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ الناس سب سے آخر میں نازل ہوئیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے نزول کی ترتیب کو نظر انداز کر کے ان میں سے ایک کوسب سے پہلے رکھ دیا گیا اور باقی تین کو سب سے آخر میں جگہ دی گئی ؟ اس تبدیلی کی تہہ میں وہی زبر دست نفسیاتی نکتہ کارفرما تھا جو قرآن مجید کے تعلیمی اور تربیتی پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔جس کے نتیجہ میں سورہ فاتحہ گویا قرآن مجید کی ڈیوڑھی یعنی پورچ قرار پائی۔اور باقی تین سورتیں اس کا وہ عقبی دروازہ یعنی بیک گیٹ بن گئیں جس میں سے ہو کر قرآن کا مطالعہ کرنے والا انسان دنیا کی عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے۔سورہ فاتحہ قرآن مجید کی ڈیوڑھی ہے ڈیوڑھی کی غرض و غایت یہ ہوتی ہے کہ کسی عمارت میں داخل ہونے والا انسان عمارت کے اندر قدم رکھنے سے پہلے ڈیوڑھی میں چند لمحات کے لئے رک کر عمارت کا مختصر سا جائزہ لے اور اس کے نمایاں خدوخال پر نظر ڈالتا ہوا اس کے اندر داخل ہو۔تا کہ وہ اصل عمارت میں قدم رکھنے سے قبل اس عمارت سے ایک عمومی تعارف پیدا کر لے۔بلکہ آجکل بڑی بڑی پبلک عمارتوں میں تو یہ بھی ایک قاعدہ بن گیا ہے کہ زائرین کی سہولت کے لئے ڈیوڑھی میں اصل عمارت کا ایک مختصر سا خاکہ آویزاں کر دیتے ہیں تا کہ اسے دیکھ کر عمارت