مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 277 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 277

مضامین بشیر جلد سوم 277 بالآخر ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کی صفت بیان کی گئی ہے۔جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ اس دنیا کی زندگی ہی انسانی زندگی کا اختتام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی بھی مقرر کر رکھی ہے۔جس میں انسان کے اچھے یا بُرے اعمال نمایاں صورت میں اپنا اپنا اجر پائیں گے۔اور ہدایت یافتوں اور گمراہوں اور نیکوں اور بدوں میں پورا پورا امتیاز قائم ہو جائے گا۔پس یہ وہ چار بنیادی اسماء الہی ہیں جن پر عرش الوہیت کی حقیقی بنیاد قائم ہے اور خدا تعالیٰ کی تمام دوسری صفات جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں وہ انہی چار بنیادی صفات کی شاخیں اور انہی کے اردگرد چکر لگانے والی ہیں۔سورہ فاتحہ میں تین امکانی گروہوں کا اصولی ذکر یہاں تک تو وہ پہلا نصف خاکہ ہے جو قرآن مجید کی تعلیم کے متعلق سورہ فاتحہ کی ڈیوڑھی نے پیش کیا ہے۔اس کے بعد اس سورۃ کا دوسرا نصف حصہ آتا ہے جو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ والہ وسلم کی رسالت اور آپ کے ماننے والوں اور منکروں کے حالات سے تعلق رکھتا ہے۔اس حصہ میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے الفاظ فرما کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔کہ وہ عظیم الشان ہدایت جس کی طرف رب العالمین کی صفت میں اشارہ کیا گیا تھا۔اب عملاً محمد عربی صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود باجود کے ذریعہ ظاہر ہو رہی ہے۔اس لئے اسے ماننے کے لئے تیار ہو جاؤ۔اس کے بعد ارشاد فرماتا ہے کہ ہر آسمانی ہدایت کے نزول کے وقت لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جایا کرتے ہیں۔ایک حصہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا ہوتا ہے۔جو خدائی ہدایت پر ایمان لا کر دین و دنیا کے انعاموں کے وارث بنتے ہیں۔دوسرا حصہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کا ہوتا ہے جو بظاہر تو ہدایت کے رستہ پر چلنے کا دعویٰ کرتے اور ایمان کے مدعی بنتے ہیں مگر عملاً ایسے کام کرتے ہیں جو خدا کے غضب کو بھڑ کانے والے ہوتے ہیں اور تیسرا حصہ ضالین کا ہوتا ہے۔جو یا تو سرے سے ایمان ہی نہیں لاتے یا ایمان لانے کے بعد صحیح رستہ کو چھوڑ کر ادھر اُدھر بھٹک جاتے ہیں۔ان تین گروہوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی سکھائی گئی ہے کہ اے لوگو! تم انعام پانے والی جماعت کا حصہ بن کر رہنا اور ہدایت کا انکار کر کے یا بعد میں سیدھا رستہ چھوڑ کر اپنے اعمال کو ضائع نہ کرنا اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے الفاظ کو مطلق صورت میں رکھ کر یہ اشارہ بھی کر دیا گیا ہے کہ اس سے ہر قسم کا دینی اور دنیوی انعام مراد ہے جس کی کوئی حد بندی نہیں کیونکہ جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رسالت سے رب العالمین کا دور شروع ہو رہا ہے۔اسی طرح قرآنی