مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 75 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 75

مضامین بشیر جلد سوم حضرت اماں جان کی تشویشناک علالت 75 اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مشترکہ صدقہ حضرت اماں جان کی بیماری بہت تشویشناک صورت اختیار کر گئی ہے۔اور اب تو گویا ان کی حالت کو نازک ہی کہنا چاہئے۔کیونکہ دو دن سے دل اور تنفس اور بلڈ پریشر کی حالت بہت ہی پریشان کن ہے اور کمزوری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔اور گو ظاہری علاج کی طرف پوری توجہ دی جارہی ہے۔لیکن ایسی حالت میں جبکہ عمر بھی پچاسی سال کو پہنچ چکی ہو اور کمزوری کا یہ عالم ہو کہ سیال غذا بھی نگلنی مشکل ہو جائے۔اصل سہارا صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوتا ہے۔فَنِعْمَ الْمَوْلى وَ نِعْمَ النَّصِير۔ان پریشان کن حالات میں یہ امر بے حد تسلی کا باعث ہے کہ جماعت کے مخلصین میں اس موقع پر دعاؤں کی طرف خاص توجہ ہے اور بعض مخلصین نے تو اپنے طور پر صدقہ کا بھی انتظام کیا ہے۔فَجَزاهُمُ اللَّهُ خَيْراً فِي الدُّنْيَا وَ لَقَهُمُ نَضْرَةٌ وَّ سَرُوراً فِي الْآخِرَةِ یہاں ربوہ میں مجھے خیال آیا کہ انفرادی صدقہ تو ہوتا ہی رہتا ہے۔اگر حضرت اماں جان کے لئے حضرت مسیح موعود کے سارے خاندان کی طرف سے مشترکہ صدقہ کا انتظام ہو جائے تو یہ بھی روحانی لحاظ سے خدا کے خاص فضل و رحم کا جاذب ہو سکتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ استقاء کی مسنون نماز سے استدلال ہوتا ہے جبکہ بارش کے رک جانے پر سارے مومن ایک جگہ جمع ہو کر دعا کرتے ہیں ) اسلام نے اجتماعی مصیبت اور تکلیف کے وقت میں اجتماعی دعا اور اجتماعی عبادت کی طرف بھی توجہ دلائی ہے پس تجویز کی گئی کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے جس کی حضرت اماں جان گویا ایک جہت سے بانی ہیں۔اس موقع پر مشتر کہ صدقہ کا انتظام کیا جانا مناسب ہے۔لیکن چونکہ بعض اوقات رقوم کے اعلان سے بعض کمزور طبیعتوں میں تکلف یا ریا وغیرہ کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے اس لئے ساتھ ہی یہ تجویز بھی کی گئی کہ کسی کی رقم نوٹ نہ کی جائے۔بلکہ جو رقم کوئی عزیز اپنے حالات کے ماتحت شرح صدر سے دے سکے وہ نوٹ کرنے کے بغیر خاموشی کے ساتھ اس تھیلی کے اندر ڈال دے جو اس غرض کے لئے صدقہ کی رقوم وصول کرنے والے عزیز کے سپرد کی گئی تھی۔تا کہ ایسے نازک موقع پر کوئی رنگ تکلف وغیرہ کا نہ پیدا ہو۔بلکہ جو کچھ دیا جائے خالص اور پاک نیت کے ساتھ صرف خدا کی رضا کی خاطر دیا جائے۔دوسری شرط یہ لگائی گئی کہ اس صدقہ کے لئے خاندان کا ہر فرد کچھ نہ کچھ رقم ضرور دے خواہ وہ ایک پیسہ یا ایک دھیلہ ہی ہو۔تا کہ کوئی مرد یا عورت یا لڑکا یا