مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 76

مضامین بشیر جلد سوم 76 لڑکی حتی کہ دودھ پیتا بچہ تک بھی اس صدقہ کی شمولیت سے باہر نہ رہے۔چنانچہ ان شرائط کے ماتحت صدقہ کی رقم جمع کی گئی جو مستحق غرباء میں تقسیم کی جارہی ہے۔بے شک یہ درست ہے کہ اسلام نے اپنی عبادتوں اور دعاؤں اور صدقوں میں ظاہر اور مخفی ہر دو قسم کا طریق مدنظر رکھا ہے۔کیونکہ ان ہر دو میں بعض حکیمانہ فوائد کا پہلو مقصود ہے لیکن کم از کم جہاں تک صدقات کا تعلق ہے اسلام نے ظاہر کی نسبت مخفی طریق کو زیادہ پسند کیا ہے۔کیونکہ ایک تو جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں اس طریق پر صدقہ کی رقوم جمع کرنے میں تکلف وغیرہ کا رنگ پیدا نہیں ہوتا۔جس سے بچ کر رہنا ایسے نازک موقعوں پر از بس ضروری ہے۔اور دوسرے اس طرح صدقہ کی رقم تقسیم کرنے میں لینے والا بھی احساس کمتری کی پست خیالی سے محفوظ رہتا ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إن تُبْدُوا الصَّدَقَتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنكُمْ مِّنْ سَيَاتِكُمُ (البقره:722) یعنی اگر تم اپنے صدقات کھلے طور پر دو۔تو یقیناً یہ بھی ایک نیکی کا کام ہے۔لیکن اگر تم چھپ کر خاموشی کے ساتھ غرباء کی امداد کرو۔تو یہ اس سے بھی زیادہ بہتر عمل ہے کیونکہ اس ذریعہ سے تمہاری بعض کمزوریوں پر خدا کی مغفرت کا پردہ پڑا رہتا ہے۔دوسری جگہ دعا کے تعلق میں اللہ تعالے فرماتا ہے۔أَدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً (الاعراف:56) یعنی اپنے رب کو طبعی رفت کی حالت میں ظاہر طور پر یا خاموشی کے ساتھ خفیہ طور پر ہر دو طرح پکارتے رہو۔اس آیت میں تضرع کا لفظ بظاہر بے موقع اور بے جوڑ نظر آتا ہے کیونکہ خفیہ کے مقابل پر ظاہر کا لفظ استعمال ہوتا ہے نہ کہ تضرع کا۔لیکن اگر غور کیا جائے تو اس جگہ اس لفظ کے اختیار کرنے میں ایک بھاری حکمت ہے کیونکہ ظاہر کے لفظ کی جگہ تضرع کا لفظ استعمال کر کے خدا تعالے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہے کہ ظاہر کی عبادت صرف وہی قابلِ قبول ہوتی ہے جس میں دلی اور طبعی جذبات کے اظہار کا رنگ ہو۔در اصل عربی میں تضرع کا لفظ ضَرعَ سے نکلا ہے جس کے معنے پستان یا تھن کے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! بے شک تم ظاہر میں بھی عبادت بجالاؤ۔مگر یہ عبادت دودھ دینے والے جانور کی طرح ہونی چاہئے کہ جو چیز اندر ہے لا زم وہی باہر آئے۔اور آئے بھی طبعی اور قدرتی رنگ میں اور کسی قسم کے تکلف یار یاء کا پہلو ہرگز نہ پایا جائے۔اور یہی اصول صدقات وغیرہ میں مد نظر ہونا چاہئے کہ وہ بالعموم مخفی طور پر دیئے جائیں