مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 74 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 74

مضامین بشیر جلد سوم 74 اپنے لئے ایک بوجھ خیال کرے تو آپ نے فرمایا ہے کہ اگر ایسی حالت ( میں ) ایسا شخص اپنے لئے معین بہتری کی دعا نہ کر سکے تو پھر وہ بصورت مجبوری ایسی دعا کر سکتا ہے کہ خدایا ! اگر میرے واسطے زندگی بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ۔لیکن اگر زندگی بہتر نہیں ہے تو مجھے وفات دے کر اپنے پاس بلا لے۔لیکن یہ ایک استثنائی صورت ہے جس میں ایک مایوس انسان کے لئے جو (اصل نسخہ میں الفاظ مٹے ہونے کی وجہ سے پڑھے نہیں جا رہے۔ناقل ) انتہائی مایوسی میں گرنے کا رستہ بند کیا گیا ہے ورنہ عام حالات میں ایک مومن اور مسلمان کا صحیح اور مسنون رستہ یقیناً یہی ہے کہ وہ عزم کے ساتھ معین صورت میں دعا مانگے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اپنے خدا پر حسن نلنی رکھتے ہوئے اور اسے ہر بات پر قادر خیال کرتے ہوئے جس چیز کو بھی اپنے لئے بہتر اور بابرکت خیال کریں اسے معین صورت میں عزم و جزم کے ساتھ خدا سے مانگیں یہی وہ وسطی نکتہ ہے جس پر خدا کی خدائی اور بندے کی بندگی کی شاخیں ملتی ہیں۔اس موقع پر اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ حضرت اماں جان کی بیماری بہت تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔دفاعی طاقت انتہائی درجہ کمزور ہو چکی ہے اور بیماری کے مقابلہ کرنے کی طاقت بے حد گر چکی ہے۔دوسری طرف حضرت اماں جان کے وجود کی برکتیں ظاہر وعیاں ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے مبارک کلام میں حضرت اماں جان کے وجود کو گویا نعمتوں کا گہوارہ قرار دیا ہے اور پھر ایک جہت سے اس بات میں بھی شک نہیں کہ حضرت اماں جان کا وجود وہ آخری تارہے جس کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جسمانی رشتہ اس وقت دنیا میں قائم نظر آ رہا ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ خصوصیت کے ساتھ حضرت اماں جان کی صحت کیلئے دعائیں کریں اور جہاں جہاں ممکن ہو ا جتماعی دعا کا بھی انتظام کیا جائے جیسا کہ قادیان کے دوستوں نے کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو اور ہمارے سروں کے ٹھنڈے اور بابرکت سائے کو تا دیر سلامت رکھے۔آمین يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محررہ 2 اپریل 1952ء) روزنامه الفضل لاہور 4 اپریل 1952ء)