مضامین بشیر (جلد 3) — Page 64
مضامین بشیر جلد سوم 64 تک پہنچائیں؟ آپ نے فرمایا جنت میں ایک سو درجے ایسے ہیں جنہیں خدا نے اپنے مجاہد بندوں کے لئے تیار کر رکھا ہے اور ہر درجہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس اے مسلمانو! جب تم خدا سے جنت کی خواہش کرو تو فردوس والے درجہ کی خواہش کیا کرو جو جنت کا سب سے وسطی اور سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔اور اس سے اوپر خدائے ذوالجلال کا عرش ہے اور اسی میں سے جنت کی تمام تر نہریں پھوٹتی ہیں۔تشریح:۔میں نے اپنے عام اصول انتخاب کے خلاف یہ لمبی حدیث اس لئے درج کی ہے کہ اس حدیث سے ہمیں کئی ایک اہم اور مفید اور اصولی باتوں کا علم حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں۔(1) یہ کہ جنت میں صرف ایک ہی درجہ نہیں ہے بلکہ بہت سے درجے ہیں۔جن میں سب سے اعلیٰ درجہ فردوس ہے جو گویا جنت کی نہروں کا منبع ہے۔(2) یہ کہ جنت میں مجاہد مسلمانوں کے کم سے کم درجہ اور قائد مسلمانوں کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ میں بھی اتنا ہی فرق ہوگا جتنا کہ زمین و آسمان میں فرق ہے۔(3) یہ کہ مسلمانوں کو نہ صرف مجاہدوں والا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلکہ مجاہدوں والے درجوں میں سے بھی سب سے اعلیٰ درجہ یعنی فردوس کو اپنا مقصد بنانا چاہئے۔(4) یہ کہ جنت کے مختلف درجے خدا تعالیٰ کے قرب کے لحاظ سے مقرر کئے گئے ہیں۔اسی لئے جنت کے اعلیٰ ترین درجہ کو عرش الہی کے قریب تر رکھا گیا ہے۔(5) یہ کہ جنت کی نعمتیں مادی نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں۔کیونکہ ان کا معیار خدا کا قرب مقرر کیا گیا ہے اور گو ان نعمتوں میں روح کے ساتھ جسم کا بھی حصہ ہو گا مگر جنت میں انسان کا جسم بھی روحانی رنگ کا ہوگا۔اس لئے وہاں کی جسمانی نعمتیں بھی دراصل روحانی معیار کے مطابق بالکل پاک وصاف ہوں گی۔یہ وہ لطیف علم ہے جو ہمیں اس حدیث سے حاصل ہوتا ہے اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا منشاء یہ ہے کہ تا مسلمانوں کے مقصد اور آیڈیل کو زیادہ سے زیادہ بلند کیا جائے۔بے شک ایک مسلمان جو اسلام کے نماز اور روزہ کے احکام وغیرہ کو تو خلوص نیت سے پورا کرتا ہے۔اس حدیث میں حج اور زکوۃ کے ذکر کو اس لئے ترک کیا گیا ہے کہ وہ ہر مسلمان پر واجب نہیں بلکہ صرف مستطیع اور مالدار لوگوں پر واجب ہیں۔مگر اپنے گھر میں قاعد بن کر بیٹھا رہتا ہے۔وہ خدا کی گرفت سے بچ کر نجات حاصل کر سکتا ہے۔مگر وہ ان اعلے انعاموں کو نہیں پاسکتا۔جو انسان کو خدا تعالیٰ کے خاص قرب کا حقدار بناتے ہیں۔پس ترقی کی خواہش رکھنے والے مومنوں کا فرض ہے کہ وہ قاعدانہ زندگی ترک کر کے مجاہدانہ زندگی اختیار کریں اور خدا