مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 65

مضامین بشیر جلد سوم 65 کے دین اور اس کے رسول کی امت کی خدمت میں دن رات کوشاں رہیں۔حق تو یہ ہے کہ ایک قاعد مسلمان جس کے دین کا اثر اور اس کے دین کا فائدہ صرف اس کی ذات تک محدود ہے۔وہ اپنے آپ کو اعلی نعمتوں سے ہی محروم نہیں کرتا بلکہ اپنے لئے ہر وقت کا خطرہ بھی مول لیتا ہے کیونکہ بوجہ اس کے کہ وہ بالکل کنارے پر کھڑا ہے اس کی ذراسی لغزش اسے نجات کے مقام سے نیچے گرا کر عذاب کا نشانہ بناسکتی ہے۔مگر ایک مجاہد مسلمان اس خطرہ سے بھی محفوظ رہتا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ خدا کی راہ میں مجاہد بننے کا کیا طریق ہے۔سو گو جہاد فی سبیل اللہ کی بیسیوں شاخیں ہیں۔مگر قرآن شریف نے دوشاخوں کو زیادہ اہمیت دی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے فَـــــل اللـــــه الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةٌ (النساء: 96) یعنی خدا تعالیٰ نے دین کے رستہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ذریعہ جہاد کرنے والوں کو گھروں میں بیٹھ کر نیک اعمال بجالانے والوں پر بڑی فضیلت دی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا بڑا ذریعہ مال اور جان ہے۔مال کا جہاد یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت اور اسلام کی ترقی اور اسلام کی مضبوطی کے لئے بڑھ چڑھ کر روپیہ خرچ کیا جائے۔اور جان کا جہاد یہ ہے کہ اپنے وقت کو زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت ( یعنی دعوت الی اللہ اور تربیت وغیرہ) میں لگایا جائے اور موقع پیش آنے پر جان کی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔جو شخص ان دو قسموں کے جہادوں میں دلی شوق کے ساتھ حصہ لیتا ہے۔وہ خدا کی طرف سے ان اعلیٰ انعاموں کا حقدار قرار پاتا ہے جو ایک مجاہد کے لئے مقدر ہیں۔مگر گھر میں بیٹھ کر نماز روزہ کرنے والا مسلمان ایک قاعد والی بخشش سے زیادہ امید نہیں رکھ سکتا۔اب دیکھو کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم پر کس درجہ شفقت ہے کہ ایک انتہائی طور پر رحیم باپ کی طرح فرماتے ہیں کہ بیشک تم نماز روزے کے ذریعہ نجات تو پا لو گے اور عذاب سے بچ جاؤ گے مگر اپنے تخیل کو بلند کر کے ان انعاموں کو حاصل کرنے کی کوشش کرو جو ایک مجاہد فی سبیل اللہ کے لئے مقدر کئے گئے ہیں۔کیونکہ اس کے بغیر قومی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہے گی۔اس تعلق میں سب سے مقدم فرض ماں باپ کا اور ان سے اتر کر سکولوں کے اساتذہ اور کالجوں کے پروفیسروں کا ہے کہ وہ بچپن کی عمر سے ہی بچوں میں مجاہدانہ روح پیدا کرنے کی کوشش کریں اور انہیں قائدانہ زندگی پر ہرگز قانع نہ ہونے دیں۔روزنامه الفضل لاہور 13 فروری 1952ء)