مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 621 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 621

مضامین بشیر جلد سوم نذرمحمد صاحب افغان درویش کی وفات پر تذکرہ 621 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مکرم نذر محمد صاحب افغان کی وفات پر الفضل میں آپ کے اوصاف یوں بیان فرمائے۔مرحوم نذر محمد صاحب افغان علاقہ خوست ملک افغانستان کے رہنے والے تھے اور ملکی تقسیم سے کافی عرصہ قبل قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔اور پھر وہیں ملکی تقسیم کے بعد بھی صبر وشکر کے ساتھ بیٹھے رہے۔بہت خاموش طبیعت کے تھے اور الگ تھلگ رہنے کے عادی تھے اس لئے ملکی زبان بہت کم سمجھ سکتے تھے اور زیادہ تر پشتو ہی بولتے تھے مگر ویسے کافی جوش رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔روزنامه الفضل ربوہ 31 مئی 1959ء) دعاؤں اور صدقات کی حقیقت بعض مخلص اور جلد باز مگر خدائی سنت سے ناواقف لوگوں کی طرف سے پوچھا جارہا ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصر اتنے عرصہ سے بیمار چلے آرہے ہیں اور حضور کی صحت کے لئے جماعت کی طرف سے اتنے صدقات کئے جارہے ہیں اور اتنی دعائیں ہور ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ یہ دعا ئیں بظاہر قبول نہیں ہو رہیں اور حضور بدستور بیمار چلے جاتے ہیں؟ اس سوال کے مختصر سے جواب میں سب سے پہلے یہ بات یا درکھنی چاہئے کہ اس قسم کے سوالات دعا کے فلسفہ سے ناواقفیت اور انسانی فطرت کی جلد بازی سے پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ جلد بازی کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ (الانبياء: 38) یعنی انسان فطرۃ جلد باز واقع ہوا ہے اور ہر کام کے متعلق چاہتا ہے کہ وہ فوراً ہو جائے۔حالانکہ خدا نے اپنی حکمتِ کاملہ کے ماتحت ہر بات کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اور خدا مومنوں کا امتحان بھی لیا کرتا ہے۔اس طرح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: إِنَّهُ يَسْتَجَابُ لَا حَدِكُمُ مَالَمْ يُعَجِّلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي قِيْلَ يَارَسُولَ اللهِ مَا الاسْتِعْجَالُ - قَالَ يَقُولُ قَدْ دَعُوتُ وَقَدْ دَعُوتُ فَلَمْ يَسْتَجَابَ لِى - فَيَسْتَحْسِرُ وَ عِنْدَ ذَالِكَ يَدَعُ الدّعاءَ