مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 620 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 620

مضامین بشیر جلد سوم 620 میں نے دیکھا کہ میں یہ آیت قرآن شریف کی پڑھتا ہوں غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَ هُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ اور کہتا ہوں کہ ادنى الارْضِ قادیان مراد ہے۔“ تذکرہ ایڈیشن دوم صفحہ 660-661) (5) اور ایک دوسرے موقع پر فرماتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ قادیان کی طرف آتا ہوں اور نہایت اندھیرا ہے اور مشکل راہ ہے اور میں رَجَـمًا بِالْغَيْبِ قدم مارتا جاتا ہوں اور ایک غیبی ہاتھ مجھ کو دیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ میں قادیان پہنچ گیا اور جومسجد کہ سکھوں کے قبضہ میں ہے ( قادیان کی ایک قدیم مسجد کو واقعی سکھوں نے حضرت مسیح موعود کے زمانہ سے قبل گوردوارہ بنا رکھا تھا اور یہ مسجد دار مسیح کے قریب تھی وہ مجھ کو نظر آئی۔میں سیدھی گلی میں جو کشمیریوں کی طرف سے آتی ہے چلا۔اس وقت میں نے اپنے تئیں سخت گھبراہٹ میں پایا کہ گویا گھبراہٹ سے بے ہوش ہوا جاتا ہوں اور اس وقت بار بار ان الفاظ سے دعا کرتا ہوں کہ رَبِّ تَجَلَّ رَبِّ تَجَلَّ (یعنی خدایا تو اپنی تجلی سے روشنی کر دے خدایا روشنی کر دے) اور ایک دیوانہ کے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے اور وہ بھی رَبِّ تَجلُّ کہتا ہے۔اور بڑے زور سے میں دعا کرتا ہوں اور اس سے پہلے مجھ کو یاد ہے کہ میں نے اپنے لئے اور اپنی بیوی کے لئے اور اپنے لڑ کے محمود کے لئے بہت دعا کی ہے۔پھر میں نے دو کتنے خواب میں دیکھے اور سخت سیاہ اور ایک سفید۔اور ایک شخص ہے کہ وہ کتوں کے پنجے کاٹتا ہے۔پھر الہام ہوا کہ كُنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قَدْ جَاءَ وَقْتُ الْفَتْحِ وَالْفَتْحُ أَقْرَبُ تذکرہ ایڈیشن دوم صفحہ 833, 934 - الہامات 1892ء 1893ء) یہ وہ چند الہامات اور کشوف ہیں جو خدائے عرش کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلب صافی پر نازل ہوئے یا جن کا نظارہ حضور کی چشم بصیرت کو دکھایا گیا۔وَ عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي وَلَا يَضِلُّ رَبِّي وَلَا يَنسَى - روزنامه الفضل ربوہ 31 مئی 1959 ء)