مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 622 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 622

مضامین بشیر جلد سوم 622 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں ضرور قبول فرماتا ہے بشرطیکہ وہ جلد بازی سے کام نہ لیں۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا جلد بازی سے یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کچھ وقت تک دعا کرنے کے بعد یہ کہنا شروع کر دے کہ میں نے بہت دعا کر کے دیکھ لیا مگر میری دعا قبول نہیں ہوئی۔جس پر ایسا شخص تھک کر بیٹھ جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے۔اور دعا کے فلسفہ کے متعلق قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے شک اللہ مومنوں کی دعائیں قبول کرتا ہے ( اور دعا تو دین کی جان ہے) مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا خدا پر سچا ایمان رکھے اور عمل صالح بجالائے۔چنانچہ فرماتا ہے: أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ لا فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة:186) یعنی میں دعا کرنے والے کی دعا کوضرور سنتا اور قبول کرتا ہوں۔مگر ضروری ہے کہ دعا کرنے والے بھی میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر سچا ایمان لائیں تا کہ وہ اپنی دعاؤں میں کامیابی کا منہ دیکھ سکیں۔اور اس تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَجِيبُ الدُّعَاءُ مِنْ قَلْبِ غَافِلٍ لاهِم - یعنی خدا ایسے دل سے نکلی ہوئی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل اور بے پرواہ ہے۔یعنی نہ تو وہ دل میں حقیقی در درکھتا ہے اور نہ ہی وہ دعا کے حقیقی فلسفہ سے واقف ہے۔اور ایک حدیث قدسی میں دعا کی قبولیت کا یہ گر بھی بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِئْ۔یعنی میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرتا ہے میں ( دیگر شرائط کے تابع ) اسی کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں۔یعنی امید رکھنے والے کو مایوس نہیں کرتا۔مگر دعا کی قبولیت کے لئے بعض اور شرائط بھی ہیں۔مثلاً یہ کہ دعا کسی ایسے امر کے لئے نہ ہو جو خدا کے کسی وعدے یا اس کی سنت کے خلاف ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (آل عمران: 10) وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا (الاحزاب:63) یعنی خدا تعالیٰ کسی صورت میں اپنے وعدہ کے خلاف کوئی بات نہیں کرتا اور نہ تم خدا کی کسی سنت میں کوئی تبدیلی پاؤ گے۔