مضامین بشیر (جلد 3) — Page 445
مضامین بشیر جلد سوم 445 حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی عداوت میں خشیت اللہ کی بھی پروا نہیں کی۔آپ کا یہ لکھنا کہ میں نے صفائی اور بریت کے راستے کی طرف اشارہ کیا تھا ایک باطل عذر ہے۔کیونکہ آپ کے مضمون کے ہر ہر لفظ سے یہ بات عیاں ہے کہ آپ دراصل تحقیق کی دعوت نہیں دے رہے بلکہ اس الزام کو سچا سمجھ کر اشاعت فحشا میں حصہ لے رہے ہیں۔پس میں آپ سے پھر یہی کہوں گا کہ یہ مقام خوف ہے۔مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ (البقره: 115)۔آپ میری پیش کردہ قرآنی آیات اور حدیث پر پھر غور کریں اور خدا سے ڈریں کہ ایک دن آپ اس کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔اختلاف عقائد کا معاملہ جدا گانہ ہے۔اس میں اگر آپ دیانتداری کے ساتھ کسی امر میں اختلاف کریں تو آپ کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اس کا حساب کتاب قیامت کے دن ہوگا۔لیکن آپ تو عقائد کی بحث سے نکل کر نہایت درجہ گندے ذاتی حملوں پر اتر آئے ہیں۔جو ہر شریف انسان کی شرافت سے بعید ہے اور ایک تبلیغی انجمن کے صدر کی شرافت سے بعید تر۔آپ نے حضرت عائشہ کے افک کے واقعہ کا ذکر کیا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اسے غلط طور پر پیش کیا۔کیونکہ آپ کو تاریخ کا صحیح علم نہیں ہے۔افک کے واقعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو اپنی مرضی سے ان کے والد حضرت ابو بکر کے گھر نہیں بھیجا تھا۔بلکہ وہ خودا جازت لے کر اپنی تسلی کی خاطر چلی گئی تھیں گو اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جا کر ملتے رہے۔باقی رہا چار گواہوں کا معاملہ سواس میں بھی افسوس ہے کہ آپ قطعانا واقف ثابت ہوئے ہیں۔چار گواہوں کے متعلق اسلامی حکم یہ ہے کہ وہ ایک ہی واقعہ کے ایک ہی وقت کے چار چشم دید گواہ ہوں۔اور دوسرے یہ کہ یہ گواہ نیک اور عادل اور راست گو ہوں۔ورنہ جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے۔فَأُولَئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الكَذِبُونَ (النور:14) ( یعنی وہ خدا کے نزدیک جھوٹے سمجھے جائیں گے ) اور عقلاً بھی ظاہر ہے کہ اگر یہ شرط نہ ہو تو کوئی نا پاک انسان اٹھ کر کسی شریف اور نیک انسان کی عزت پر حملہ کر سکتا ہے۔ایسے لوگوں کے لئے جو بلا شرعی ثبوت کے فحشا کی اشاعت کرتے ہیں اسلام نے اسی کوڑوں کی سزا ر کھی ہے۔پس آپ پہلے اسلام کی تعلیم سے واقفیت پیدا کریں اور پھر بات کریں۔آپ نے اپنے خط کے آخر میں یہ اشارہ کر کے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نعوذ باللہ مجھ پر بھی ” نگاہ کرم رکھتے ہیں۔یعنی وہ گویا اپنے بچوں کی خاطر میرے خلاف سازش کر رہے