مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 444 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 444

مضامین بشیر جلد سوم 444 قبول کرنے میں کوئی عذر نہ کرنا چاہئے۔آپ کا بھی فرض ہے کہ عاقلانہ شریفانہ اور مومنانہ طریق سے کسی ایسی تحریر پر جس کی غرض اصلاح اور بریت پر مبنی ہے غور کریں۔قرآنی آیت جس کے متعلق آپ نے مجھے توجہ دلائی ہے میرے خیال میں آپ کے لئے قابل غور ہے۔حضرت عائشہ اپنے والد کے گھر بھیج دی گئیں اور جب تک برات نہ ہوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے علیحدہ رہے۔معلوم ہوا کہ ایسے حالات میں بریت ضروری ہے۔اب رہا چار گواہوں کا سوال۔آپ ایک غیر جانبدار کمیشن مقرر کریں انشاء اللہ تعالیٰ اس کے سامنے گواہان حاضر ہو جائیں گے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ پر بھی نگاہ کرم ہے۔کیونکہ یہ لازمی ہے کہ آپ کے برادر مکرم دوسروں کے اثر کو ملیا میٹ کر کے گدی کو اپنی نسل میں ہی محدود کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے حال پر رحم فرمائے۔مجھے امید ہے کہ آپ میرے متعلق رائے تبدیل نہ کریں گے اور پرانے تعلقات کو قطع نہ کریں گے۔والسلام۔منتظر جواب غلام محمد 23-4-57 دوسرا خط خاکسار مرزا بشیر احمد بنام ڈاکٹر غلام محمد صاحب مکرمی ڈاکٹر صاحب! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ میرے خط محررہ 57-4-5 کے جواب میں آپ کا خط محررہ 57-4-23 موصول ہوا۔میں آپ کے اس خط پر انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کے سوا کیا کہ سکتا ہوں۔آپ نے میری درد بھری نصیحت کو جس کی تائید میں میں نے ایک واضح قرآنی آیت اور ایک واضح حدیث بھی درج کی تھی بغیر کسی دلیل کے ٹھکرادیا ہے اور اپنی غیر اسلامی روش پر ضد اختیار کی ہے۔حضرت عمرؓ کے متعلق روایت آتی ہے کہ كَانَ وَقَافًا عِندَ کتاب الله ( صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن باب خذ العفو وأمر بالمعروف واعرض عن الجاهلين ) یعنی جب ان کے سامنے کوئی قرآنی آیت پڑھی جاتی تھی تو خواہ انہیں اس آیت کے استدلال سے اختلاف ہی ہو وہ قرآنی آیت کے احترام میں فورارک جاتے تھے۔مگر آپ نے اس کی بھی پروا نہیں کی اور اپنی ذاتی رائے کو حکم الہی اور ارشاد نبوی پر ترجیح دی۔آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کی باتوں میں کسی شخص کی ذات پر بلا شرعی ثبوت کے اس قسم کے سنگین اور ناپاک الزام لگانا ایک ایسی بات تھی جس سے آپ کا دل ڈر جانا چاہئے تھا۔مگر آپ نے