مضامین بشیر (جلد 3) — Page 20
مضامین بشیر جلد سوم 20 شدہ آزادی کو قائم اور برقرار رکھنا اور اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا۔جہاں تک پاکستان کی آزادی کے حصول کا سوال ہے اس کے حالات پر غور کرنے سے یہ بات ظاہر و عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ آزادی ایک خدائی موہبت تھی نہ کہ کوئی انسانی کسب۔بے شک اس آزادی کے حصول کے لئے کوشش کی گئی اور ملک وقوم کو کچھ قربانی بھی کرنی پڑی۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ملکی اور قومی آزادی کے لئے جتنی لمبی جد و جہد اور جتنی وسیع قربانی کرنی پڑتی ہے وہ مسلمانوں کو پاکستان کے حصول کے لئے نہیں کرنی پڑی۔اور یوں نظر آتا ہے گویا پاکستان کی آزادی خدائی تقدیر کے ماتحت ایک پکا ہوا پھل تھا جو درخت کو ذراسی حرکت دینے سے اتر آیا۔ملکی تقسیم اور ہجرت مکانی کے نتیجہ میں جو مالی اور جانی نقصان مسلمانوں کو اٹھا نا پڑا وہ بے شک بہت بھاری اور غیر معمولی نقصان تھا۔مگر ظاہر ہے کہ یہ نقصان پاکستان کے حصول کیلئے نہیں تھا بلکہ پاکستان کے حصول کا نتیجہ تھا۔پس لاریب پاکستان کی آزادی ایک خدائی موہبت تھی جو بطور خاص انعام کے مسلمانوں کو حاصل ہوئی۔اور جب یہ آزادی ایک خاص موہبت ہے تو اسے قائم رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا مسلمانوں کا ایک نہایت اہم فرض قرار پاتا ہے۔بے شک اپنی کمائی ہوئی چیز کی حفاظت بھی انسان کے لئے ضروری ہوتی ہے حتی کہ ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ( صحیح البخاری، کتاب المظالم والغضب ، باب من قاتل دون مالہ ( یعنی جو مسلمان اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے وہ شہید ہے۔لیکن جو تقدس اور جو اہمیت ایک خدائی انعام کی حفاظت کو حاصل ہے وہ عام کسب شدہ چیزوں کی حفاظت کو ہرگز حاصل نہیں۔ان حالات میں اہل پاکستان کا یہ دو ہرا فرض ہے کہ وہ پاکستان کی آزادی کے لئے ہر ممکن کوشش اور ہر ممکن تدبیر اور ہر ممکن قربانی کے واسطے تیار رہیں۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ خدا کی نظر میں ایک نہایت اہم فرض کو ضائع کرنے والے ٹھہریں گے۔اوپر کے بیان سے ظاہر ہے کہ آزادی کے سوال کا دوسرا اور اصل پہلو حاصل شدہ آزادی کا قیام اور اس کو برقرار رکھنا اور اس آزادی سے پورا پورا فائدہ اٹھانا ہے اور دراصل یہی وہ پہلو ہے جسے قرآن شریف نے بھی بڑی اہمیت دے کر نہایت تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَّيْفَ فِى الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِم لِتَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ (يونس:15) یعنی پھر ہم نے دوسروں کے بعد ملک میں تمہیں قائم مقام بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے اعمال بجا لاتے ہو۔اس لطیف آیت سے جو حقیقتا آزادی کے فلسفہ کا نچوڑ ہے۔ظاہر ہے کہ اگر آزادی ایک نعمت ہے تو اس