مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 715 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 715

مضامین بشیر جلد سوم 715 ( ج ) پھر ایک اور حدیث میں آپ فرماتے ہیں: قَالَتِ الْيَهُودُ الْعَزْلِ الْمُوْءُ ودَةُ الْصُغُرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبَتِ الْيَهُودُ إِنَّ اللَّهَ لَو اَرَادَ أَنْ يَخْلُقُ شَيْئًا لَمْ يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَصْرِفَهُ (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح باب ماجاء فی العزل ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یہودی لوگ کہتے ہیں کہ عزل یعنی برتھ کنٹرول تو گویا مخفی رنگ میں ایسا ہے کہ ایک زندہ رہنے والے بچہ کو خود اپنے ہاتھ سے دفن کر دیا جائے۔آپ نے فرمایا یہود غلط کہتے ہیں ( کیونکہ عزل ایک وقتی اور غیر یقینی سا طریقہ ہے اور ) اگر خدا عزل کے باوجود کوئی بچہ پیدا کرنا چاہے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا۔(د) مگر اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ خطرہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ اگر عزل کے طریق کو کامیاب صورت حاصل ہو جائے تو وہ قتل اولا د کارنگ اختیار کر لیتا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں: سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَالِكَ الْوَادُ الْخَفِيُّ وَهِيَ (وَإِذَا الْمَوْءُ وُدَةُ سُئِلَتْ) (صحیح مسلم کتاب النکاح باب جواز الغيلة وهى وطء المرضع و کراهتة ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل یعنی برتھ کنٹرول کے متعلق پوچھا گیا جس پر آپ نے فرمایا یہ تو ایک مخفی قسم کا قتل اولاد ہے۔اور قرآن مجید فرماتا ہے کہ قیامت کے دن قتل اولاد کے متعلق پرسش ہوگی۔(9) (الف) اوپر کی دونوں حدیثیں بظاہر متضاد نظر آتی ہیں مگر حقیقتا وہ متضاد نہیں۔کیونکہ جہاں آپ نے یہود کے خیال کی تکذیب فرمائی ہے وہاں جیسا کہ حدیث کی عبارت سے ظاہر ہے یہ مراد ہے کہ بعض اوقات عزل کے باوجود بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔اور جہاں خود عزل کو قتل اولاد کے مترادف قرار دیا ہے وہاں یہ مراد ہے کہ اگر کوئی حمل قرار پانے والا ہو اور عزل کے نتیجہ میں وہ عمل رک جائے تو یہ بھی ایک رنگ قتل اولا ڈ“ کا ہوگا۔(ب) دوسری تشریح ان حدیثوں کے ظاہری تضاد کو دور کرنے کی یہ ہے کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ یہودی لوگ جھوٹ کہتے ہیں کہ عزل ایک مخفی قسم کا قتل اولاد ہے۔وہاں یہ مراد ہے کہ جو خاص ہسپتال دنیا کی اصلاح اور ترقی کے لئے خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے خواہ وہ دین کے میدان میں ہوں یعنی انبیاء کرام اور دوسرے روحانی مصلحین جن کا وجود روحانیت کی بقا کے لئے ضروری ہے یا وہ دنیا کے