مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 716 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 716

مضامین بشیر جلد سوم 716 میدان میں ہوں یعنی بڑے بڑے ڈاکٹر اور سائنسدان اور مصلح قسم کے سیاستدان وغیرہ۔جن کا وجود نسل انسانی کے لئے خاص طور پر مفید ہے تو خواہ عزل کا طریق ہو یا کچھ اور ہو خدا تعالیٰ ان کے پیدا کرنے کا کوئی نہ کوئی رستہ کھول دیتا ہے تا کہ دنیا کی ترقی میں روک نہ پیدا ہو۔اور جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عزل کو مخفی قسم کا قتل اولاد قرار دیا ہے وہاں عام لوگوں کی ولادت مراد ہے جس میں عزل کے ذریعہ روک پیدا ہو جاتی ہے۔گویا ایک حدیث میں تقدیر عام کا ذکر ہے اور دوسری میں تقدیر خاص کا ذکر ہے۔(ج) یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ امام ابن حزم ( جو ایک بہت بلند پایہ امام ہیں ) اور بعض دوسرے ائمہ نے ان دونوں حدیثوں میں سے اس حدیث کو ترجیح دی ہے اور اسے زیادہ صحیح قرار دیا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے فرمایا ہے کہ عزل کا طریق ایک مخفی قسم کے قتل اولاد کا رنگ رکھتا ہے۔(دیکھو نیل الاوطار ابواب العزل) (10) اسی لئے یہ روایت آتی ہے کہ: قَدْ كَرِهَ الْعَزْلَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلَ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ( ترندی کتاب النکاح) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت اور اسی طرح کئی دوسرے علماء اسلام نے عزل کو نا پسند کیا ہے۔(11) مگر جائز اور حقیقی ضرورت کے وقت اس سے روکا بھی نہیں گیا چنا نچہ حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ : كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنزِلُ۔( بخاری و مسلم کتاب النکاح) یعنی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض اوقات عزل یعنی برتھ کنٹرول کا طریق اختیار کرتے تھے اور اس زمانہ میں قرآنی شریعت نازل ہو رہی تھی۔( مگر ہمیں اس سے قرآن میں روکا نہیں گیا ) (12) لیکن بہر حال قرآن مجید غربت اور رزق کی تنگی کی بناء پر برتھ کنٹرول کی اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ فرماتا ہے: (الف) وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خطاً كَبِيرًا۔(بنی اسرائیل: 32)