مضامین بشیر (جلد 3) — Page 690
مضامین بشیر جلد سوم 690 کے حکم کے ساتھ اسلام کی خدمت کے لئے بویا گیا ہے۔یہ بیج زمین سے پھوٹ کر باہر آچکا ہے اور اس کی ہری ہری کو نپلیں فضا میں لہلہا رہی ہیں۔اب وہ بہر حال بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔مگر خوش قسمت ہیں وہ جو اخلاص اور قربانی اور دیانت داری اور جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ اس کی آبیاری میں حصہ لیں گے۔أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ طَهُمْ فِيهَا خلِدُونَ (المومنون: 11-12) محرره 29 اگست 1959 ء ) روزنامه الفضل ربوه 3 ستمبر 1959ء) اپنی صحت کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کا اعلان غالبا چار دن ہوئے مولوی محمد یعقوب صاحب انچارج شعبہ زودنویسی کی طرف سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایک اعلان اپنی صحت کے متعلق الفضل کے صفحہ اول پر شائع ہوا تھا۔جس میں جماعت کو تسلی دلائی گئی تھی کہ ڈاکٹروں کی طرف سے جو اعلان میری صحت کے متعلق روزانہ شائع ہورہا ہے وہ گو ڈاکٹری نقطہ نگاہ سے درست ہو گا مگر میں خدا کے فضل سے اپنی صحت کو بہتر پاتا ہوں اور موٹر میں سیر کے لئے بھی جاتا ہوں اور یہ کہ جماعت کو اس بارے میں کوئی تشویش نہیں ہونی چاہئے۔حضور کے اس اعلان میں طبعا مخلصین جماعت کے دلوں میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر پیدا کر دی ہے اور مجھے ہر ڈاک میں احباب کرام کی طرف سے اس مضمون کے خطوط پہنچ رہے ہیں کہ اب تو خدا کے فضل سے حضرت صاحب کی حالت بہتر ہے اور کوئی فکر کی بات نہیں۔سو جہاں تک جماعت کی خوشی کا سوال ہے وہ حقیقتاً جماعت کے اخلاص کا ایک نہایت خوش کن پہلو ہے کہ کس طرح امام کی تکلیف ان کو بے چین کر دیتی ہے۔جس طرح امام کی صحت میں ذرا سا افاقہ دلوں میں خوشی کی لہر پیدا کر دیتا ہے۔دوسرا پہلو حضور کے اعلان میں خوشی کا یہ ہے کہ خواہ ابھی تک ڈاکٹری رپورٹ کچھ بھی ہو حضور خود اب اپنی صحت کو بہتر خیال فرمانے لگے ہیں اور حضور کی بیماری کا یہ پہلو نفسیاتی لحاظ سے بھی حضور کی صحت کی بحالی میں بہت مد ہو سکتا ہے۔مگر میں مخلصین جماعت کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ حضور کے اس اعلان کی وجہ سے اپنی دعاؤں میں