مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 689 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 689

مضامین بشیر جلد سوم 689 فلاں معاملہ میں امام نے غلطی کی ہے ان کو اسے اس کی غلطی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ کہنے کی اجازت نہیں کہ ”آپ نے غلطی کی ہے بلکہ وہ صرف اشارہ کی زبان میں ادب کے ساتھ ”سُبْحَانَ اللهِ “کہہ سکتے ہیں یعنی غلطیوں سے تو صرف خدا ہی پاک ہے۔اور اگر پھر بھی امام کو اپنی بھول کا احساس نہ ہو اور وہ نماز میں ایک غلط قدم اٹھا جائے تو مقتدیوں کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائیں یا اس پر اعتراضوں کی بوچھاڑ شروع کر دیں۔بلکہ ان کو بہر حال اس کے پیچھے چلنا ہوگا اور اس کی غلطی کا یقین رکھتے ہوئے بھی اس کی اقتداء کرنی ہوگی۔یہ وہ بلند معیار اطاعت ہے جس کے نتیجہ میں احمدی صحیح معنوں میں بنیانِ مرصوص ( یعنی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ) بن سکتے ہیں۔ورنہ وہ ایک بکھرے ہوئے جھاڑو کی تیلیوں کی طرح بیکار ہو کر رہ جائیں گے۔ہمارے دوست سوچیں اور غور کریں کہ کیا ان کا معیار اطاعت ان احکام کے مطابق ہے؟ ہاں ہاں وہ ضرور سوچیں اور غور کریں۔امراء کو مشورہ لینے کا حکم دوسری طرف اسلام میں ( جو ایک نہایت متوازن مذہب ہے ) امراء کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ وہ تمام اہم امور میں جماعت کے مشورہ سے کام کیا کریں تا کہ افراد جماعت میں بشاشت پیدا ہو اور تعاون کی روح ترقی کرے اور کام کرنے کی فطری صلاحیتیں صحیح طریق پر نشو ونما پائیں۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ: أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمُ (الشورى: 39) یعنی وہ مسلمانوں کے قومی اور جماعتی کام آپس میں مشورہ کے ساتھ طے ہوئے چاہئیں۔لیکن اس کے باجود اسلام یہ بھی ہدایت فرماتا ہے کہ اگر کوئی امیر اپنی جماعت کے مشورہ کو نظر انداز کر کے جماعتی مفاد میں کوئی اور فیصلہ کرنا ضروری خیال کرے اور مقامی جماعت کے مشورہ کو جماعت کے لئے نقصان دہ سمجھے تو فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (آل عمران: 160 ) ( یعنی جب تو کسی بات کا عزم کرلے تو پھر خدا پر توکل کر ) کے حکم کے ماتحت اسے ایسا کرنے کا اختیار ہے۔کیونکہ ہمارے کاررواں کی اصل مہار خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہمارا حقیقی کارساز ہے۔یا پھر مرکزی کارکنوں کی طرف رجوع کیا جائے جو براہ راست خلیفہ وقت کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔الغرض یہ وہ مختصر ڈھانچا ہے جس کے مطابق مقامی عہدہ داروں کا انتخاب ہونا چاہئے۔اور یہی وہ ڈھانچا ہے جس کے مطابق مقامی عہدہ داروں کو کام کرنا چاہئے۔یادرکھو کہ ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں ہیں اور یا درکھو کہ ہم کوئی دنیوی انجمن بھی نہیں ہیں بلکہ ہم ایک خالص خدائی جماعت ہیں۔جس کا بیج خدائے عرش