مضامین بشیر (جلد 3) — Page 688
مضامین بشیر جلد سوم غداری ہے۔688 میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کو ہمیشہ قابل اور مخلص اور فدائی کارکن عطا کرتا رہے جو جماعت کے بہترین گڈریے ثابت ہوں۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ امراء کی اطاعت کا بلند معیار اس جگہ ایک مختصر سا نوٹ اسلامی معیار اطاعت کے متعلق درج کرنا بھی بے موقع نہ ہو گا۔سواس تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: السَّمُعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيْمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرُ بِمَعْصِيَّةٍ فَإِذَا أُمِرَ بمَعْصِيَّةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ - (ابوداؤ د کتاب الجھاد باب في الطاعة ) یعنی ہر مسلمان پر اپنے امیر کا حکم ماننا فرض ہے خواہ اسے وہ حکم پسند ہو یا نا پسند ہو۔لیکن اگر اسے کوئی ایسا حکم دیا جائے جو خدا اور اس کے رسول کے حکم کے صریح خلاف ہے اور اس میں خدا اور اس کے رسول کے حکم کی کھلی کھلی نافرمانی لازم آتی ہو تو اس صورت میں ایسے حکم کا ماننا اس پر فرض نہیں۔اس حکم کی تشریح میں نماز کا ایک چھوٹا سا مسئلہ بڑی بھاری روشنی ڈالتا ہے۔جیسا کہ ہر چھوٹے بڑے مسلمان کو معلوم ہے کہ اسلام کا یہ ایک معروف اور مسلم مسئلہ ہے کہ جب کوئی شخص نماز میں امام مقرر ہو اور وہ نماز پڑھاتے پڑھاتے کسی بات کے متعلق بھول جائے مثلاً چار رکعتوں کی بجائے تین رکعت پڑھا دے یا قعدہ میں بیٹھنے کی بجائے اگلی رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے یا کوئی اور غلطی کر جائے تو اس صورت میں مقتدیوں کے لئے یہ حکم ہے وہ ادب کے طریق پر اشارہ کے ساتھ صرف اتنا کہیں کہ ”سُبحَانَ اللهِ ، یعنی غلطی سے تو صرف خدا کی ذات ہی پاک ہے تا کہ اس اشارے سے امام سمجھ لے کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔لیکن اگر اس پر بھی امام کو اپنی غلطی کا احساس نہ ہو اور وہ اپنی غلطی پر عملاً مصر رہے تو اس صورت میں مقتدیوں کے لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ وہ امام کی غلطی کا یقین رکھنے کے باوجود امام کے پیچھے چلیں اور اس کی اقتداء سے الگ نہ ہوں۔یہ ایک نہایت حکیمانہ ہدایت ہے جس میں امیروں اور اماموں کے ادب اور ان کی اطاعت کے متعلق بڑے لطیف رنگ میں سبق دیا گیا ہے۔دوستو! سوچو اور غور کرو کہ باوجود اس کے کہ اسلام کے احکام خدا کی طرف سے ہیں جو حضرت افضل الرسل خاتم النبیین کی زبان مبارک کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں اور باوجود اس کے مقندی یقین رکھتے ہوں کہ