مضامین بشیر (جلد 3) — Page 680
مضامین بشیر جلد سوم 680 مکانات گر جاتے ہیں۔سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ جاتی ہیں۔کاروبارِ زندگی سیلاب زدہ علاقوں میں معطل ہو جاتا ہے۔آمد ورفت کے ذرائع ختم ہو جاتے ہیں۔زرعی معیشت اور اقتصادی زندگی تہہ و بالا ہو جاتی ہے۔لاکھوں روپے پر پانی پھر جاتا ہے۔سیلاب اُتر جاتا ہے تو امراض پھوٹ پڑتے ہیں۔طرح یہ سیلاب ملک کی معیشت اور اقتصادیات اور عام زندگی کے لئے ایک مستقل در دسر بن گئے ہیں۔“ (روز نامہ تسنیم لاہور 9 جولائی 1959ء) کشمیر میں سیلاب کی تباہ کاری کے متعلق ملک کا مشہور معروف اخبار پاکستان ٹائمنز“ لکھتا ہے: وادی کشمیر میں حالیہ سیلاب سے زائد از ایک سوانسانی جانیں ہلاک ہو چکی ہیں۔کشمیر کا یہ سیلاب جہاں تک زندہ انسانوں کی یاد کام کرتی ہے ہولناک ترین سمجھا گیا ہے۔اس سیلاب میں فوج کے سترہ سپاہی بھی دوسروں کو بچاتے بچاتے ہلاک ہو چکے ہیں۔اندازہ کیا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں چاول کی نصف فصل سیلاب کا شکار ہوگئی ہے۔“ پاکستان ٹائمنر مورخہ 13 جولائی 1959ء) مغربی پاکستان میں سیلاب کے مجموعی نقصان کا جو اندازہ وسط جولائی 1959 ء تک لگایا گیا ہے اور ابھی بارش کے آغاز کا وقت تھا جس کے بعد اب تک سیلاب کی تباہ کاری جاری ہے ) اس کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا ہے: ایک عبوری سرکاری جائزہ کے مطابق مختلف اضلاع میں اس وقت تک سو سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔تین ہزار سے زیادہ مویشی ہلاک اور لاپتہ ہیں۔چار ہزار مکانات بالکل تباہ ہو گئے ہیں اور دس ہزار مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ہزاروں من اناج اور بھوسہ ضائع ہو گیا ہے۔سیلاب سے کھڑی فصلوں کو بھی بے پایاں نقصان پہنچا ہے۔صرف دو اضلاع سیالکوٹ اور مظفر گڑھ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ میں کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔“ روزنامه آفاق لاہور 16 جولائی 1959ء) پھر یہی اخبار ” آفاق اپنے دوسرے نوٹ میں چند دن بعد لکھتا ہے کہ: سیلاب سے مغربی پاکستان کے بارہ اضلاع شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ان اضلاع کی آبادی سوا کروڑ کے قریب ہے گویا صوبہ کی ایک تہائی آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔مختلف اقسام کے نقصان کی جو تفصیل پیش کی گئی ہے وہ بہت روح فرسا کیفیت سامنے لاتی ہے۔سیلاب سے 1428 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ساڑھے بارہ ہزار مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔تین ہزار مویشی بہہ گئے ہیں۔چودہ