مضامین بشیر (جلد 3) — Page 681
مضامین بشیر جلد سوم لاکھ ایکڑ اراضی زیر آب آئی ہے اور اڑھائی لاکھ من غلہ اور بھوسہ تباہ ہوا ہے۔“ 681 (روز نامه آفاق لاہور 16 جولائی 1959ء) یہ ہولناک نقصان صرف مغربی پاکستان اور کشمیر سے تعلق رکھتا ہے۔جو نقصان مشرقی پاکستان اور ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہ اس کے علاوہ ہے اور پھر یہ نقصان صرف موجودہ سال سے متعلق ہے۔گزشتہ دس بارہ سالوں میں جو ہولناک نقصانات غیر معمولی سیلابوں کی وجہ سے ہوئے ہیں وہ مزید برآں ہیں اور ابھی موجودہ برسات کا کچھ حصہ باقی ہے۔بے شک ان عدیم المثال سیلابوں اور ان ہیبت ناک تباہ کاریوں اور ان کی پے در پے تکرار کی کچھ ظاہری اور مادی وجو ہات بھی ضرور ہوں گی۔لیکن اگر اس ارض و سما اور اس کائنات عالم کا کوئی خالق و مالک خدا ہے اور ضرور ہے جس کے ہاتھ میں تقدیر کی کنجیاں ہیں۔جو ہمارے رسول پاک (فداہ نفسی ) کے فرمان کے مطابق ہر قدر خیر و شر کا مالک ہے تو اس نے اپنی قدیم سنت کے مطابق ان مادی اور ظاہری وجوہات کے پیچھے کچھ روحانی اور باطنی موجبات بھی لگا رکھی ہوتی ہیں۔کیونکہ اس رحیم و کریم ہستی کا ہر فعل خواہ وہ بظاہر کتنی تھی اور کتنے شدید عذاب کی صورت میں نظر آئے دراصل اس کی ازلی رحمت کا ہی کرشمہ ہوتا ہے۔جس کے ذریعہ وہ ایک مہربان اور شفیق باپ کی طرح اپنی مخلوق کو ان کی غفلت کی میٹھی نیند سے جگا کر ہوشیار کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی زبان پر خدا تعالیٰ نے ان غیر معمولی سیلابوں اور غیر معمولی عذابوں کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی۔اور دنیا کو بار بار ہوشیار کیا تھا کہ وہ وقت سے پہلے اپنی اصلاح کر لیں۔مگر ضروری تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے اور دنیا ان ہیبت ناک نظاروں کو دیکھتی تا اگر ڈرانے سے نہیں تو کم از کم ان تباہ کاریوں کا نظارہ کرنے سے ہی لوگوں کے دل خوف خدا سے بھر کر اپنے اخلاق اور کردار کی اصلاح کی طرف مائل ہوتے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے کئی سال قبل الہام کے ذریعہ فرمایا تھا کہ: صحن میں ندیاں چلیں گی اور سخت زلزلے آئیں گئے پھر خدائے عز وجل نے آپ کی زبان پر فرمایا کہ: ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 564) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم پشم خود دیکھ لو گے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 269)