مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 679 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 679

مضامین بشیر جلد سوم 46 یہ تباہ کن سیلاب۔۔۔خدا کی پناہ عامۃ الناس میں اصلاح اخلاق کی شدید ضرورت ارباب حل وعقد کی خدمت میں مخلصانہ مشورہ 679 چند سالوں سے پاکستان اور ہندوستان اور کشمیر وغیرہ میں غیر معمولی سیلاب آرہے ہیں جو اپنی تباہ کاری اور وسعت میں بالکل عدیم المثال ہیں۔قریباً ہر سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے ان علاقوں کے ندی نالے اور دریا اس طرح ابلتے اور جوش مارتے ہیں کہ گویا وہ خالقِ ارض و سما کی طرف سے مخلوق کو ہوشیار اور بیدار کرنے کے لئے مامور کئے گئے ہیں۔طبیعیات کے ماہروں اور انجینئروں اور دیگر واقف کاروں نے ان غیر معمولی سیلابوں کی بعض وجوہات بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور ممکن ہے کہ ان میں سے بعض وجوہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے درست بھی ہوں گی۔مگر ان سیلابوں کی غیر معمولی نوعیت اور ان کی ہیبت ناک تباہ کاری اور پھر دس بارہ سال سے ان کا اوپر تلے قریباً ہر سال اپنے خونی لاؤلشکر کے ساتھ ملک کے نواح میں ڈیرے ڈالنا ہر سمجھ دار غور کرنے والے شخص کو حیرت میں ڈال رہا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے؟ چنانچہ ” سیلاب کا عذاب“ کے عنوان کے ماتحت ملک کے مشہور اور نامور اخبار ” نوائے وقت“ کا وقائع نگار خصوصی لکھتا ہے: جولائی اگست ستمبر ان تینوں مہینوں میں بارش اور سیلاب کے باعث پریشانی ، غرقابی اور نقل مکانی کا عذاب متوقع ہوتا ہے۔ہزاروں ایکڑ زمین پر بپھرے ہوئے دریاؤں کی یلغار سے ہمارے معاشرتی نظام کی برہمی اس قدر نقصان دہ ہوتی ہے کہ اس کی تلافی دوسرے سال تک بھی ممکن نہیں ہوتی۔کسے معلوم ہے کہ منزل نا آشنا میں کتنے انسانی ٹھکانوں کو یہ طغیانی اس سال بھی بہالے جائے گی۔کتنے مویشی بھٹک جائیں گے۔کتنا اناج اور بھوسہ بہہ جائے گا اور مواصلات کا کس قد رسلسلہ بے ربط ہو جائے گا“ (نوائے وقت 4 جولائی 1959ء) پھر سیلاب کی تباہ کاریوں“ کے عنوان کے تحت روز نامہ تسنیم لاہور کا مقالہ افتتاحیہ میں ذیل کا ہیبت ناک نقشہ پیش کیا گیا ہے: ’سیلاب کی تباہ کاریاں ہماری زندگی کا گویا معمول بن چکی ہیں۔تقریباً ہر سال ہمیں ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بہت سی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔بے شمار مویشی مرجاتے ہیں۔فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔