مضامین بشیر (جلد 3) — Page 644
مضامین بشیر جلد سوم 644 قَالَ مَعَ كُلِّ إِنْسَانِ شَيْطَانٌ قَالَتْ عَائِشَةَ وَ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ رَبِّي إِعَانَتِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ (صحیح مسلم) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ہر انسان کے ساتھ شیطان لگا ہوا ہے۔حضرت عائشہؓ نے حیران ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کے ساتھ بھی کوئی شیطان لگا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔مگر خدا نے مجھے شیطان پر غلبہ عطا فرمایا ہے۔حتیٰ کہ میرا شیطان بھی مسلمان ہو چکا ہے۔کیا اس واضح اور صریح ارشاد کے ہوتے ہوئے یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کسی یہودی منافق نے جو قرآن کی رو سے ایک مغضوب علیہ قوم ہے اپنے شیطان کی مدد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بلند مرتبہ انسان پر جادو کر دیا ہو گا۔اور آپ اس شیطانی جادو سے متاثر ہو کر مدتوں پریشان اور مغموم اور بیما رر ہے؟ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا يَصِفُون - باقی رہے سحر کے مقدم الذکر پانچ معنی۔یعنی چالا کی اور فریب کے طریق پر کسی جھوٹی بات کو سچ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرنا یا ملمع سازی کا طریق اختیار کرنا یا ہوشیاری کے کلام سے دوسروں کو دھوکہ دینا وغیرہ وغیرہ۔سو یہ بات کوئی اچنبھا چیز نہیں کیونکہ وہ ہر نبی کے مقابل پر ہوتی آئی ہے اور جھوٹے لوگ حق کے مقابل پر ہر زمانہ میں ایسے باطل حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔مگر خدائے قدیر و عزیز ایسے تمام جھوٹوں کے پول کھولتا رہا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ : كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي (المجادله : 23) یعنی خدا نے یہ بات لکھ رکھی ہے اور مقدر کر رکھی ہے کہ ہر رسول کے زمانہ میں میں اور میرے رسول ہی ہمیشہ غالب رہیں گے اور کوئی شیطانی حربہ ہمارے مقابلہ پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔اب رہے سحر کے چھٹے معنی یعنی علم توجہ اور ہنوٹزم کے طریق پر کسی انسان یا کسی چیز پر کوئی وقتی تصرف کر کے کوئی ظاہر میں نظر آنے والی عارضی تبدیلی پیدا کر دینا۔سو ہم اس علم کا انکار نہیں کرتے کیونکہ وہ دنیا کے مشاہدہ اور تجربہ سے ثابت شدہ ہے اور قرآن مجید نے بھی اسے تسلیم کیا ہے۔چنانچہ حضرت موسی کے قصہ میں قرآن فرماتا ہے: فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى (طه: 67) یعنی جو ساحر لوگ موسی کے مقابل پر آئے تھے انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں موسٹی کے سامنے