مضامین بشیر (جلد 3) — Page 643
مضامین بشیر جلد سوم 643 کے نبی پر جادو کر دیا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو بہت جلد صحت دے کر دشمنوں کے منہ کالے کر دیئے اور منافقوں کا جھوٹا پروپیگنڈا خاک میں مل گیا۔لیکن پیشتر اس کے ہم واقعہ کی اصل حقیقت پر بحث کریں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لفظ سحر کی کسی قدر تشریح کر دی جائے۔سو جاننا چاہئے کہ سحر ایک عربی لفظ ہے جس کے بنیادی معنی ایسی بات کے ہیں جس کا سبب تو مخفی ہو مگر اس کا نتیجہ ظاہر میں نظر آئے۔چنانچہ لغت والے لکھتے ہیں کہ السِّحْرُ مَا لَطُفَ مَاخِذُهُ وَدَق (اقرب الموارد)۔یعنی سحر ا سے کہتے ہیں جس کا ماخذ مخفی ہو اور پس پردہ رہے اور صرف اس کے اثرات نظر آئیں۔چنانچہ اس بنیادی معنی کی بناء پر سحر کے معروف معنی حسب ذیل سمجھے جاتے ہیں: (1) کسی باطل چیز کو ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ حق کی صورت میں ظاہر کرنا۔(2) دوسروں کو دھوکا دینے کے لئے کسی بات میں بار یک حیلہ سازی یا ہاتھ کی پھرتی یا شعبدہ بازی کا طریق اختیار کرنا۔(3) کسی غرض کے حصوں کے لئے فتنہ فساد پیدا کر کے اس کا سہارا ڈھونڈ نا۔(4) چاندی پر سونے کا پانی چڑھانا یا کوئی ایسا رنگ چڑھانا جس سے وہ بظا ہر سونا نظر آئے۔(5) ایسے مؤثر اور فصیح و بلیغ رنگ میں کلام کرنا کہ سنے والا شخص دنگ رہ جائے یا دھوکہ کھا جائے۔(6) علم توجہ یعنی ہینوٹزم کے ذریعہ کسی دوسرے انسان کے دل ودماغ پر یا کسی دوسری چیز پر وقتی اثر پیدا کر دینا۔(7) عرف عام والا جادو جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ شیطانی طاقتوں کی مدد سے بعض تصرفات کئے جاتے ہیں۔(اقرب الموارد اور مفردات راغب) یہ وہ سات معنی ہیں جو لغت کی رو سے یا عام محاورہ کی رو سے لفظ سحر کے ثابت ہوتے ہیں۔ان میں سے ساتویں معنی (یعنی یہ کہ شیطانی طاقتوں کی امداد سے کوئی غیر معمولی تصرف کیا جائے ) تو جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کا تعلق ہے بالکل نا قابل قبول اور قطعی طور پر مردود ہیں۔دنیا بھر میں شیطانی طاقتوں کا فاتح اعظم اور افضل الرسل جس سے بڑھ کر طاغوتی قوتوں کا سر کچلنے والا نہ آج تک پیدا ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ ایک ذلیل یہودی زادے کے شیطانی سحر کا نشانہ بن گیا تھا عقل انسانی کا بدترین استعمال ہے۔اور یہ صرف ہمارا دعوی ہی نہیں بلکہ خود سرور کائنات (فدا نفسی ) نے اس کی تردید فرمائی ہے: