مضامین بشیر (جلد 3) — Page 630
مضامین بشیر جلد سوم 630 اور برکتوں کے وارث بنتے ہیں۔قرآن مجید فرماتا ہے: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ط وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ تت وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقره: 156-158) یعنی ہم تمہیں اس دنیا کی زندگی میں بعض امتحانوں میں ڈالیں گے۔تم پر کبھی کبھی خوف و ہراس کی حالت پیدا ہوگی اور کبھی تمہیں بھوک اور تنگی ستائے گی اور کبھی تمہارے اموال کا نقصان ہوگا اور کبھی جانیں ضائع کی جائیں گی۔اور کبھی تم اپنی محنتوں کے پھل سے محرومی دیکھو گے۔پھر جولوگ ان حالات میں صبر اور رضا بالقضاء سے کام لیں گے انہیں اے رسول تو ہماری طرف سے بشارت دے۔ہاں وہی صبر کرنے والے کہ جب انہیں کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم سب خدا کے بندے ہیں۔جو چیز وہ دیتا ہے اور جو چیز وہ لیتا ہے وہ سب خدا کی ہے اور اسی کی طرف ہم نے اپنی اخروی زندگی کے لئے لوٹ کر جانا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور یہی لوگ زندگی کے صحیح معیار اور ہدایت پر قائم ہیں۔یہ لطیف اور جامع آیت صبر و رضا کے متعلق اسلامی تعلیم کا مرکزی نقطہ ہے۔اس میں تین اصولی باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔اول یہ کہ دنیا میں انسان کو مختلف قسم کے مصائب پیش آنے ضروری ہیں جو انسانی اخلاق کی تکمیل اور اخلاق کی پختگی کے لئے ضروری ہے۔جیسا کہ لفظ لَنَبْلُوَنَّكُمُ میں اشارہ کیا گیا ہے۔پس ہر مومن کو اس قسم کے مصائب کے لئے تیار رہنا چاہئے۔دوسرے اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب کسی انسان کو کوئی مصیبت پیش آئے تو اسے جزع فزع یا خدا کی تقدیر پر اعتراض اور نکتہ چینی کرنے کی بجائے کامل صبر اور رضا کے مقام پر قائم رہنا چاہئے۔اور اس کی زبان پر اور اس کے دل میں اس ابدی حقیقت کے سوا کوئی بات نہیں آنی چاہئے کہ جو خدا نے لیا وہ اسی کا تھا اور جو خدا دے گا وہ بھی اسی کا ہوگا اور ہم سب نے بالآخر اسی کے پاس جمع ہونا ہے۔تیسرے اس آیت میں یہ عظیم الشان بشارت دی گئی ہے کہ مومنوں کا صبر ہرگز ضائع نہیں جائے گا۔بلکہ وہ خدا کی طرف سے بے شمار رحمتیں اور بے شمار برکتیں پائیں گے۔کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی رضا کے مطابق صحیح ہدایت اور صحیح مقام پر قائم ہیں۔اور دوسری جگہ فرما تا ہے کہ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ یعنی صبر کرنے والوں کا سب سے بڑا اجر یہ ہے کہ خدا جوز مین و آسمان کا مالک ہے ایسے لوگوں کے ساتھ ہو گا جو صبر کریں گے۔اور خدا کی رفاقت اور اس کی حفاظت سے بڑھ کر کس کی رفاقت اور کس کی حفاظت ہو سکتی ہے؟ کیا صبر کے متعلق اس سے بڑھ کر تفصیلی اور جامع ہدایت کسی اور مذہب