مضامین بشیر (جلد 3) — Page 631
مضامین بشیر جلد سوم 631 نے دی ہے یا دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہر گز نہیں۔یہ اسی پاک تعلیم کا اثر تھا کہ ہمارے آقا سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اکلوتے بچے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر جو آپ کی عمر کے آخری حصہ میں واقع ہوئی تھی جس کے بعد آپ کو کسی اور نرینہ اولاد کی امید نہیں تھی وہ عظیم الشان الفاظ فرمائے جو رہتی دنیا تک صبر اور رضا بالقضاء کا بہترین نمونہ رہیں گے۔آپ نے فرمایا: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا تَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَىٰ رَبَّنَا وَإِنَّا بِفَراقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْرُونُون - ( صحیح بخاری کتاب الجنائز باب قول النبی آنا ایک لمحزونون) یعنی ہماری آنکھ اپنے پیارے بچے کی وفات پر آنسو بہاتی ہے اور دل غم محسوس کرتا ہے مگر ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ جس بات میں خدا راضی ہے اسی میں ہم راضی ہیں۔اور ہم خدا کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق ہر حال میں صابر و شاکر ہیں۔ہاں بچہ کی جدائی کا غم ہمیں ضرور ہے اور وہ انسان کی فطری محبت اور فطری شفقت کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔اب دیکھو اور غور کرو کہ ہمارے مقدس رسول (فدا نفسی) نے ہمیں جو تعلیم خدائے عرش سے علم پا کر قرآن کے ذریعہ دی تھی اس کا آپ نے خود کیسا اعلیٰ اور کیسا مکمل نمونہ پیش کیا ہے۔فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے بچے ابراہیم کی وفات کا غم تو ہے اور بہت ہے جو ایک طبعی اور فطری امر ہے۔اس غم کو میرا دل محسوس کرتا ہے اور میری آنکھ آنسوؤں کے ذریعہ اس کی غمازی بھی کر رہی ہے مگر میری زبان پر کوئی ایسا کلمہ نہیں آسکتا جو خدا کی دی ہوئی تعلیم اور اس کی رضا کے خلاف ہو۔بلکہ میں ہر حال میں اس کی تقدیر پر صابر وشا کر ہوں۔اور آپ زبان سے جزع فزع کرنے یا بال نوچنے یا چھاتی پیٹنے یا خدائی تقدیر کے متعلق کوئی اعتراض کا کلمہ زبان پر لانے کو ایسی نفرت اور نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے کہ ایک دفعہ جب بعض عورتوں نے اپنے کسی عزیز کی وفات پر نا جائز جزع فزع کیا اور اپنی زبان سے بعض نا مناسب کلمات نکالے تو آپ نے سخت غصہ کے ساتھ فرمایا کہ جاؤ ان کے منہ میں مٹی بھر دو یہ اس لئے تھا کہ آپ کی تمام توجہ کا مرکزی نقطہ خدا کی ذات تھی اور آپ اس پختہ ایمان پر قائم تھے کہ انسان کی اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔جب کہ اس نے اس دنیا کے اعمال کا پھل پانا اور خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔چنانچہ جب آپ کا آخری بچہ اور ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد فوت ہوا اور فوت بھی ایسے وقت میں ہوا کہ جب خدا کے متواتر الہامات کے ماتحت خود آپ بھی اپنی زندگی کے آخری دن گن رہے تھے تو آپ نے کمال ہمت اور