مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 629 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 629

مضامین بشیر جلد سوم یعنی قضاء وقد رکو بدلنے کی طاقت دعا کے سوا کسی اور چیز کو حاصل نہیں۔629 اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دعا میں اللہ تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا نے مجھے بار بار بذریعہ الہام یہی فرمایا ہے کہ ( دراصل ) جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ ہوگا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اس کے سوا کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا اس کو ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے۔مگر اکثر لوگ دعا کی اصل فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دعا کے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچنے کے واسطے کس قد رتوجہ اور محنت درکار ہوتی ہے۔دراصل دعا کرنا ایک قسم کی موت کا اختیار کرنا ہے۔پس میں مخلصین جماعت سے دوبارہ ، سہ بارہ بلکہ بار بار اپیل کرتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے لئے دعا کرنے میں ہرگز ہرگز ستی اور غفلت سے کام نہ لیں بلکہ اپنی ان روحانی کوششوں کو پہلے سے بھی تیز تر کردیں۔حضور کی بیماری (جس کے بعض پہلوؤں میں بے شک کسی قدرا فاقہ بھی ہے ابھی تک ) کافی تشویشناک ہے۔بلکہ اس سے زیادہ قابل فکر ہے جو اکثر دوستوں کا خیال ہے۔بلکہ ہمیں بعض دفعہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ممکن ہو حضور کے علاج کے لئے یورپ سے کوئی ماہر ڈاکٹر بلایا جائے مگر یہ باتیں کافی غور اور مشورہ چاہتی ہیں اور پھر ہر کام خاص انتظام کے بغیر ممکن بھی نہیں ہوتا۔لیکن بہر حال جو ہتھیار ہمارے اختیار میں ہے اس کے استعمال میں تو غفلت نہیں ہونی چاہئے۔محرره 16 جون 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 18 جون 1959ء) مصائب میں صبر کا کامل نمونہ دنیا دار الابتلاء ہے جس میں انسان کے لئے کئی قسم کے ابتلاء اور امتحان اور مصائب اور حوادث پیش آتے رہتے ہیں اور کوئی انسان بھی ان مصائب سے مستی نہیں۔بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ سب سے زیادہ مصائب کا نشانہ انبیاء کی مقدس جماعت بنتی ہے۔کیونکہ خدا ان کے ذریعہ مومنوں میں اخلاق کی پختگی پیدا کرنا اور صبر ورضا کی تعلیم دینا چاہتا ہے۔اور پھر جو لوگ صبر کرتے ہیں وہی خدا کی طرف سے خاص رحمتوں